جھارکھنڈ کے رانچی میں بھرتی امتحانات سے متعلق جاری تنازع کے درمیان اداکار پیوش مشرا بھی امیدواروں کی حمایت میں سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کے آنسو دیکھ کر وہ خود کو روک نہیں سکے اور اسی وجہ سے ان کے درمیان پہنچے۔ پیوش مشرا نے اس دوران اداکار نصیرالدین شاہ کے ایک بیان پر بھی ردعمل ظاہر کیا۔
’طلبہ کے آنسو دیکھ کر رہا نہیں گیا‘
پیوش مشرا نے رانچی میں احتجاج کر رہے امیدواروں سے ملاقات کی اور ان کے مسائل کو سمجھنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو اپنے مطالبات کے لیے سڑکوں پر جدوجہد کرتے دیکھنا اور ان کی آنکھوں میں آنسو دیکھنا ان کے لیے تکلیف دہ تھا۔اداکار کے مطابق وہ کسی سیاسی مقصد کے تحت امیدواروں کے درمیان نہیں آئے، بلکہ ان کی حالت دیکھ کر ان سے ملنے اور ان کی آواز سننے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے نوجوانوں کے مطالبات کو سنجیدگی سے لینے کی اپیل کی۔
نصیرالدین شاہ کے بیان پر ردعمل
پیوش مشرا نے اس موقع پر نصیرالدین شاہ کے ایک بیان پر بھی جوابی ردعمل دیا۔ دونوں اداکاروں کے درمیان اختلافِ رائے نے اس معاملے کو مزید توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔پیوش مشرا نے کہا کہ فنکاروں اور عوامی شخصیات کی ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوانوں کے مسائل کو سمجھیں اور ضرورت پڑنے پر ان کے ساتھ کھڑے ہوں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ طلبہ اور امیدواروں کے جذبات کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
رانچی میں بھرتی امتحان کا تنازع
رانچی میں بھرتی امتحانات سے متعلق امیدواروں کا احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین امتحانی عمل میں شفافیت اور مبینہ بے ضابطگیوں کی غیر جانب دارانہ جانچ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس معاملے کو لے کر سیاسی رہنما بھی اپنے اپنے موقف سامنے رکھ رہے ہیں۔حالیہ دنوں میں جھارکھنڈ کی بھرتی امتحانات کا معاملہ سیاسی اور سماجی سطح پر بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ امیدواروں کا کہنا ہے کہ ان کے مستقبل سے جڑے معاملے میں حکومت کو واضح اور قابلِ اعتماد کارروائی کرنی چاہیے۔ پیوش مشرا کی امیدواروں سے ملاقات کے بعد احتجاج کو ایک نئی توجہ ملی ہے۔ اب سب کی نظریں حکومت کے اگلے قدم اور امیدواروں کے مطالبات پر ہونے والی کارروائی پر مرکوز ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


