Bharat Express DD Free Dish

Naseeruddin Shah

نصیرالدین شاہ جیسے ’لومڑی‘ بننے کے بجائے کتا کہلانا پسند کریں گی۔کنگنا کا یہ بیان نصیرالدین شاہ کے اس تبصرے کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے ملک میں جاری احتجاج اور طلبہ تحریکوں کے دوران بالی ووڈ کی بڑی شخصیات کی خاموشی پر سوال اٹھایا تھا۔

پیوش مشرا نے رانچی میں احتجاج کر رہے امیدواروں سے ملاقات کی اور ان کے مسائل کو سمجھنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو اپنے مطالبات کے لیے سڑکوں پر جدوجہد کرتے دیکھنا اور ان کی آنکھوں میں آنسو دیکھنا ان کے لیے تکلیف دہ تھا۔

ریتک روشن ان دنوں اپنے او ٹی ٹی ڈیبیو کو لے کر بھی کافی سرخیوں میں ہیں۔ وہ ایک تھرلر پروجیکٹ ’اسٹورم‘ بطور پروڈیوسر لے کر آ رہے ہیں، جس کی تیاری پرائم ویڈیو کے اشتراک سے کی جا رہی ہے۔ اس نئی تھرلر سیریز کو لے کر مداحوں میں خاصا جوش پایا جا رہا ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہ میٹنگ شاستری بھون میں اطلاعات و نشریات کی وزارت کے سکریٹری کے دفتر میں بلائی گئی تھی۔ نیٹ فلکس کے کنٹینٹ ہیڈ سمیت دو سینئر عہدیداروں نے اس میں حصہ لیا۔ اطلاعات و نشریات کی وزارت کے سکریٹری سنجے جاجو بھی میٹنگ میں موجود تھے۔

مسلمانوں کو حجاب اور ثانیہ مرزا کے اسکرٹ کی فکر چھوڑ کر تعلیم پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ مسلمانوں کو مدارس کے بجائے عصری تعلیم اور نئے خیالات کی فکر کرنی چاہیے۔ مودی کی مخالفت کرنا بہت آسان ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ مودی کے اقتدار میں آنے سے پہلے ہی اس ملک میں بہت کچھ غلط تھا۔

دی ایولنگ سٹی نئی دہلی میں خطاب کرتے ہوئے نصیر الدین شاہ نے کہا، 'یہ میرے لئے یقیناً مایوس کن ہے کہ  ہندی سنیما 100 سال پرانا ہے لیکن ہم وہی فلمیں بناتے رہتے ہیں۔

داسرو اپنی بیوی کی ساڑھی سے اپنی پیٹھ پر باندھ کر 3 ماہ کی بچی کے ساتھ پانچ سال بعد ممبئی سے جھارکھنڈ واپس آجاتا  ہے۔ 3 ماہ کی بچی بول نہیں سکتی۔ لیکن داسارو اس سے بات کر رہا ہے۔ باتیں بھی کیا ؟

ایسے میں مرتے وقت غلط فہمی ہو گی کہ وہ میرے لیے رو رہے ہیں۔ کم از کم مرتے وقت کوئی غلط فہمی نہ ہو۔ تم کل مر جاؤ گے اور دو چار دن بعد کوئی تمہیں یاد نہیں کرے گا۔ میں  نے تو کہہ دیا ہے کہ  میری تصویر بھی نہیں لگانا، مجھے بھول جانا، یہ بہت ضروری ہے۔

پوری بے باکی کے ساتھ انتخابات میں ووٹ حاصل کرنے کیلئے اسلامو فوبیاکا استعمال کیا جا رہا ہے، ایسے میں یہ بالکل پریشان کن وقتہے۔ اس قسم کی چیزیں جو خالص، غیر مخفی پروپیگنڈے کو لپیٹ میں لے رہی ہیں اور یہ زمانے کےمزاج  کا عکس ہے۔ مسلمانوں سے نفرت ان دنوں فیشن ہے، یہاں تک کہ پڑھے لکھے لوگوں میں بھی مسلمانوں سے نفرت پیدا ہوگئی ہے۔