مرکزی وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے کہا ہے کہ بھارت اور سویڈن کے درمیان بڑھتی ہوئی شراکت داری اس مشترکہ یقین کی عکاس ہے کہ حکومتوں، صنعتوں، اختراعی اداروں اور مالیاتی تنظیموں کے باہمی تعاون سے ہی پائیدار ترقی اور صنعتی تبدیلی کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے منگل کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ دونوں ممالک ماحول دوست ترقی، صاف توانائی اور جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں مل کر مستقبل کی نئی راہیں ہموار کر رہے ہیں۔ پیوش گوئل نے بتایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور سویڈن کے وزیر اعظم الف کرسٹرسن نے مشترکہ طور پر ایک اہم مضمون تحریر کیا ہے، جس میں عالمی ترقی، ماحولیاتی تحفظ اور اختراع پر مبنی معیشت کے حوالے سے دونوں ممالک کی یکساں سوچ کو اجاگر کیا گیا ہے۔ ”بھارت اور سویڈن: ترقی، مضبوطی اور پائیداری ساتھ ساتھ“ کے عنوان سے شائع اس مضمون میں کہا گیا کہ دنیا اس وقت جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال، توانائی کے بحران اور اقتصادی تقسیم جیسے بڑے چیلنجوں سے گزر رہی ہے۔
مضمون میں کہا گیا کہ موجودہ حالات میں دنیا کے سامنے دو راستے ہیں۔ پہلا یہ کہ ممالک صرف اپنے محدود قومی مفادات تک خود کو محدود کر لیں، جبکہ دوسرا راستہ عالمی اشتراک، مشترکہ ترقی اور پائیدار مستقبل کے لیے تعاون کو فروغ دینا ہے۔ رہنماؤں نے زور دیا کہ عالمی استحکام اور اقتصادی بہتری کے لیے بین الاقوامی شراکت داری ناگزیر ہو چکی ہے۔ مشترکہ مضمون میں اقوام متحدہ کی اسی ویں سالگرہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ موجودہ عالمی حالات میں کثیر جہتی تعاون کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ساتھ ہی اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ عالمی اداروں میں اصلاحات ناگزیر ہیں تاکہ وہ بدلتے ہوئے عالمی تقاضوں کے مطابق مؤثر کردار ادا کر سکیں۔
رہنماؤں نے ماحولیاتی تبدیلی کو دنیا کا ایک بڑا مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے اثرات بھارت، سویڈن اور دیگر ممالک کی معیشتوں اور سماجی نظام پر واضح طور پر پڑ رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موسمیاتی اقدامات کو ترقیاتی ضروریات سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں اربوں لوگ بہتر معیار زندگی، روزگار، جدید بنیادی ڈھانچے اور توانائی تک آسان رسائی کے خواہاں ہیں۔ ایسے میں ترقی اور ماحولیات کے درمیان توازن قائم کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے۔
ادھر پیوش گوئل نے دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر ترنجیت سنگھ سندھو سے ملاقات بھی کی۔ اس دوران قومی دارالحکومت میں بنیادی ڈھانچے کی بہتری، شہری سہولیات اور عوامی خدمات کو مزید مؤثر بنانے سے متعلق مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ بھارت اور سویڈن کے درمیان تعاون شعبے تک محدود نہیں رہے گا بلکہ تعلیم، ہنرمندی، تحقیق، گرین انرجی اور صنعتی اختراع جیسے میدانوں میں دونوں ممالک باہمی تجربات اور وسائل سے فائدہ اٹھائیں گے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


