علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ہولی منانے کی اجازت مل گئی ہے۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) میں ہولی منانے کا معاملہ ان دنوں سرخیوں میں ہے۔ اسے لے کراین آرایس سی ہال کے پرووسٹ پروفیسربی بی سنگھ نے کہا کہ 13 اور14 مارچ کوعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا کوئی بھی طالب علم آکرہولی کھیل سکتا ہے۔ 2 دن اے ایم یو طلبا کے لئے کھلا رہے گا۔ این آرایس سی ہال میں جم کررنگ اورگلاب اڑائیں۔ واضح رہے کہ کچھ دن پہلے ہی اے ایم یوانتظامیہ سے ہندو طلبا نے این آرایس سی ہال میں ہولی ملن تقریب منانے کی اجازت مانگی تھی۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی انتظامیہ نے اس سے پہلے اجازت دینے سے انکارکردیا تھا اورکہا تھا کہ نئی روایت پڑھنے نہیں دے گی۔ حالانکہ اب اے ایم یوانتظامیہ نے ہولی منانے کی اجازت دے دی ہے۔
بی جے پی ایم پی ستیش گوتم کا متنازعہ بیان
اسی درمیان علی گڑھ سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن پارلیمنٹ ستیش گوتم نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ہولی منانے سے متعلق تنازعہ کویہ کہہ کراوربڑھا دیا کہ ’’کوئی بھی کسی کواے ایم یوکیمپس میں ہولی منانے سے نہیں روک سکتا۔‘‘ ستیش گوتم نے ہندو طلبا کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا، ’’اگرکسی ہندوطالب علم کوکیمپس میں ہولی منانے میں کوئی پریشانی آتی ہے تواس کی مدد کرنے کے لئے میں موجود ہوں۔‘‘
قابل ذکرہے کہ یہ تنازعہ تب شروع ہوا، جب ہندوتنظیموں کے اراکین نے اے ایم یوانتظامیہ پر ہندو طلبا کوکیمپس میں ہولی ملن تقریب منعقد کرنے کی اجازت نہ دینے کا الزام لگایا۔ ستیش گوتم نے اس تنازعہ کو مزید بڑھاتے ہوئے کہا کہ ’’کسی بھی جگہ ہولی کھیلنے کے لئے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘
ستیش گوتم نے کہا- کوئی مارپیٹ کرے گا تواوپرپہنچا دیا جائے گا
رکن پارلیمنٹ ستیش گوتم نے ایک دھمکی آمیزتبصرہ کرتے ہوئے کہا، “اگرکوئی مارپیٹ کرے گا تواسے اوپربھیج دیا جائے گا۔ اس تقریب کے لئے بدھ کواجازت طلب کی گئی تھی، لیکن مبینہ طورپراسے مسترد کردیا گیا تھا۔” مقامی کانگریس لیڈراورعلی گڑھ کے سابق ایم ایل اے وویک بنسل نے بی جے پی پرسیاسی فائدے کے لئے اے ایم یومیں ہولی کے جشن پرجان بوجھ کرتنازعہ پیدا کرنے کا الزام لگایا اوراسے “بدقسمتی” قراردیا۔ اے ایم یو کے سابق طالب علم وویک بنسل نے اپنا ذاتی تجربہ بتاتے ہوئے کہا، “ہم ہمیشہ اے ایم یومیں دوستوں کے ساتھ ہولی مناتے تھے اورمجھے اس معاملے پرکسی کی طرف سے کوئی تلخی یا مخالفت یاد نہیں آتی۔”
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




