نئی دہلی: سابق بھارتی آرمی چیف جنرل منوج مکند نروَنے کی مجوزہ سوانح عمری ’’فور اسٹارز آف ڈیسٹنی‘‘ کو لے کر جاری بحث و مباحثے کے درمیان پینگوئن رینڈم ہاؤس انڈیا (پی آر ایچ آئی) نے ایک باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے کتاب کی موجودہ حیثیت واضح کر دی ہے۔ پبلشنگ ہاؤس نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ یہ کتاب نہ تو شائع کی گئی ہے اور نہ ہی کسی بھی شکل میں تقسیم یا فروخت کی گئی ہے اور اس کے کسی بھی حصے کی غیر مجاز گردش قانوناً جرم ہے۔ پینگوئن رینڈم ہاؤس انڈیا کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’فور اسٹارز آف ڈیسٹنی‘‘ کے واحد اور مکمل اشاعتی حقوق صرف اور صرف پی آر ایچ آئی کے پاس محفوظ ہیں۔ پبلشر نے اس بات پر زور دیا کہ وہی اس کتاب کو کسی بھی فارمیٹ میں شائع یا تقسیم کرنے کا مجاز ادارہ ہے اور اس کے علاوہ کسی بھی ذریعہ سے کتاب یا اس کے مندرجات کی فراہمی غیر قانونی تصور کی جائے گی۔
بیان میں واضح طور پر کہا گیا کہ کتاب تاحال اشاعت کے مرحلے میں داخل ہی نہیں ہوئی۔ پبلشر کے مطابق نہ تو کتاب کی کوئی طباعت شدہ کاپی تیار کی گئی ہے اور نہ ہی ڈیجیٹل، ای بک یا پی ڈی ایف کی صورت میں اسے جاری کیا گیا ہے۔ اسی طرح یہ کتاب عوام کے لیے نہ فروخت کے لیے پیش کی گئی ہے اور نہ ہی کسی اور ذریعے سے دستیاب کرائی گئی ہے۔ پینگوئن رینڈم ہاؤس انڈیا نے خبردار کیا کہ اگر کتاب یا اس کے کسی حصے کی کوئی کاپی، خواہ وہ مکمل ہو یا جزوی، اس وقت گردش میں پائی جاتی ہے تو وہ واضح طور پر کاپی رائٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہے۔ یہ خلاف ورزی تمام فارمیٹس پر نافذ ہوگی، جن میں پرنٹ، ڈیجیٹل، پی ڈی ایف اور دیگر آن لائن یا آف لائن ذرائع شامل ہیں۔
Statement from the publisher. pic.twitter.com/pksacg3EeT
— Penguin India (@PenguinIndia) February 9, 2026
پبلشر نے کہا کہ اس طرح کی غیر قانونی اور غیر مجاز اشاعت یا ترسیل کو فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ پینگوئن رینڈم ہاؤس انڈیا اپنے دانشورانہ املاک کے حقوق کے تحفظ کے لیے قانون کے تحت دستیاب تمام اقدامات اور قانونی چارہ جوئی اختیار کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ پبلشر کے مطابق یہ وضاحتی بیان باقاعدہ طور پر اپنا مؤقف ریکارڈ پر لانے کے لیے جاری کیا گیا ہے، تاکہ کتاب کی حیثیت سے متعلق کسی بھی قسم کی قیاس آرائی یا غلط معلومات کا ازالہ کیا جا سکے۔ بیان کے اختتام پر کہا گیا کہ اس وضاحت سے ’’فور اسٹارز آف ڈیسٹنی‘‘ سے متعلق جاری مباحث میں شفافیت آئے گی اور عوام کو درست معلومات میسر ہوں گی۔
یہ تنازع اس وقت سامنے آیا جب کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے پارلیمنٹ کے اندر سابق آرمی چیف کی اسی کتاب کے چند مبینہ اقتباسات کا حوالہ دیا۔ اس کے بعد فوری طور پر یہ سوال اٹھنے لگا کہ جس کتاب کی کوئی کاپی مارکیٹ میں دستیاب نہیں، اس کے مندرجات پارلیمنٹ تک کیسے پہنچے۔ دفاع اور قومی سلامتی سے متعلق حساس امور پر لکھی گئی اس کتاب کے بغیر اجازت پھیلاؤ کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے، جس کے بعد قانونی کارروائی کا آغاز ہوا۔ دہلی پولیس نے اس معاملے میں نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے اور تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ پولیس یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ کتاب کا ڈرافٹ کس مرحلے پر اور کن ذرائع سے باہر آیا۔ تفتیش کا دائرہ پبلشنگ ہاؤس، مصنف کے قریبی حلقوں اور تکنیکی ذرائع تک پھیلایا جا رہا ہے، تاکہ اس لیک کی اصل وجہ سامنے آ سکے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




