جموں و کشمیر کے ایک بااثر شیعہ لیڈر اور سابق وزیر عمران رضا انصاری نے 4 اگست کو نئی دہلی میں وزیر داخلہ امت شاہ سے ملاقات کی۔ یہ میٹنگ اس لیے نہایت اہم ہو جاتی ہے کیونکہ یہ آرٹیکل 370 کی منسوخی اور سابقہ جموں و کشمیر ریاست کو دو مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کرنے کی چھٹی سالگرہ سے ایک دن پہلے ہوئی ہے۔
عمران انصاری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں وزیر داخلہ امت شاہ کے ساتھ ملاقات کی تصویر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ’’جموں و کشمیر میں زمینی حقائق کے بارے میں مخلصانہ اور گہری بات چیت کے لیے آج دہلی میں عزت مآب مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ جی سے ملاقات کی۔‘‘ سجاد لون کی قیادت والی پیپلز کانفرنس کے جنرل سکریٹری عمران رضا انصاری نے مزید کہا کہ ’’ہم نے طویل بات کی اور ایل جی کی طرف سے دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں کی بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو تسلیم کیا جو کہ فوری اور مستقل توجہ کا مطالبہ کرتی ہے۔‘‘
Met the Hon’ble Union Home Minister @AmitShah Ji today in Delhi for a sincere and in-depth conversation regarding the on-ground realities in Jammu & Kashmir. We spoke at length and acknowledged the efforts made by the @OfficeofLGJandK for the rehabilitation of families impacted… pic.twitter.com/onErvUbcYF
— Imran Reza Ansari (@imranrezaansari) August 4, 2025
واضح رہے کہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ عسکریت پسندی کا شکار ہونے والے تمام خاندانوں کو معاوضہ اور نوکریاں فراہم کی جائیں گی۔ انھوں نے پولیس کو بعض معاملات میں مقدمات درج کرنے کی بھی ہدایت کی ہے، جہاں ابھی تک مقدمات درج نہیں ہوئے ہیں۔ انصاری نے کہا ’’میں نے محرم کے دوران مرکزی اور ریاستی حکومت کی حمایت کے لیے بھی تعریف کی اور بعض ممنوعہ جلوسوں کا مسئلہ اٹھایا۔ اور اس بات پر زور دیا کہ اگلے سال سے ان کی پرامن بحالی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

