Bharat Express DD Free Dish

Parliamentary Panel Seeks Expert Views on ‘One Nation, One Election’: ’’ون نیشن، ون الیکشن‘‘ پر پارلیمانی کمیٹی نے سیاسی ماہرین اور علمی شخصیات سے کی مشاورت، سابق سی جے آئی جسٹس کھنہ بھی دیں گے اپنی قانونی رائے

ماہرین کا کہنا ہے کہ جمہوریت صرف بار بار انتخابات کرانے تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس میں شفافیت، کارکردگی اور عوامی اعتماد کو بھی مدِنظر رکھنا ضروری ہے۔

مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) نے پیر کے روز ’’ون نیشن، ون الیکشن بل‘‘ کے سلسلے میں سیاسی ماہرین اور تعلیمی شخصیات سے مشاورت کی، جس کے دوران پینل کے چیئرمین پی پی چودھری نے بتایا کہ ممبران نے اس موضوع پر مختلف سوالات اٹھائے اور وضاحت طلب کی۔ انھوں نے مزید کہا کہ ماہرین نے متفقہ طور پر کہا کہ ملک میں بیک وقت انتخابات نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ پی پی چودھری نے کہا کہ ’’سیاسی ماہرین کی رائے لینا اس لیے ضروری ہے کیوں کہ یہ ایک حساس اور دور رس نتائج کا حامل موضوع ہے۔ ان ماہرین نے واضح کیا کہ اگر بھارت کو ترقی کی راہ پر تیزی سے آگے بڑھانا ہے تو ’ون نیشن، ون الیکشن‘ کا نظام ناگزیر ہے۔‘‘

انھوں نے مزید کہا کہ سابق چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس کھنہ بھی 19 اگست کو پارلیمانی کمیٹی کے سامنے پیش ہوں گے اور اپنی قانونی رائے دیں گے۔ ذرائع کے مطابق پارلیمانی کمیٹی کی اس میٹنگ میں مرکزی بحث اس پر ہوئی کہ بیک وقت لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات کرانے کے امکانات اور چیلنجز کیا ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جمہوریت صرف بار بار انتخابات کرانے تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس میں شفافیت، کارکردگی اور عوامی اعتماد کو بھی مدِنظر رکھنا ضروری ہے۔ انھوں نے زور دیا کہ بار بار انتخابات کرانے سے کرپشن کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، جو جمہوریت کو کمزور کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہر انتخابی عمل میں نافذ ہونے والا ضابطہ اخلاق (Model Code of Conduct) حکومت کے ترقیاتی کاموں کی رفتار کو سست کر دیتا ہے اور فیصلے مؤخر ہوتے ہیں۔

ماہرین نے دیے کچھ اہم مشورے

ماہرین نے انتخابی اصلاحات کے چار بڑے شعبوں کی نشاندہی کی:

سیاسی جماعتوں کی ساخت

انتخابی مہم کا دائرہ

پارلیمانی و قانون سازی عمل

خواتین کی نمائندگی

انھوں نے یہ مشورہ بھی دیا کہ امیدواروں کی کارکردگی رپورٹ (Report Card) عوام کے لیے دستیاب ہونی چاہیے اور پارٹیوں کو حلقہ وار منشور جاری کرنے کی ترغیب دی جائے۔ خواتین کی نمائندگی کے حوالے سے ماہرین نے کہا کہ مقامی حکومتوں میں خواتین کی شمولیت کے مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں، حتیٰ کہ غیرمحفوظ نشستوں پر بھی بڑی تعداد میں خواتین منتخب ہوئی ہیں۔

وہیں تعلیمی میدان، خاص طور پر اسکولی تعلیم پر بار بار ہونے والے انتخابات کے منفی اثرات کا بھی ذکر کیا گیا، کیوں کہ اسکولوں کو پولنگ اسٹیشنوں میں تبدیل کیے جانے اور تعلیمی شیڈول میں خلل ڈالنے کی شکایات عام ہیں۔ واضح رہے کہ دسمبر 2024 میں ’’آئینی ترمیمی بل (129ویں)‘‘ اور ’’یونین ٹیریٹری قوانین (ترمیمی) بل 2024‘‘ لوک سبھا میں پیش کیے گئے تھے، جنھیں مزید غور و خوض کے لیے دونوں ایوانوں کی مشترکہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا تھا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ملک میں انتخابی اصلاحات پر سنجیدہ بحث جاری ہے اور ’ون نیشن، ون الیکشن‘ کے تصور کو لے کر حکومت، اپوزیشن اور ماہرین کے درمیان متضاد آرا سامنے آ رہی ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read