Urdu Conclave 2026

Malikarjun Khadge Vs Kiren Rijiju: آر پار کی لڑائی! ’’اب مجھے کرن رجیجو سے قواعد سیکھنے پڑیں گے‘‘، آخر ملیکارجن کھڑگے اتنے برہم کیوں ہوئے؟

راجیہ سبھا اور لوک سبھا میں جمعرات کے روز شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی۔ پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے کارروائی کے دوران اپوزیشن کو ایوان کے قواعد کا حوالہ دیا، جس پر قائدِ حزبِ اختلاف ملیکارجن کھڑگے نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اہم معاملات پر جواب دینے سے گریز کر رہی ہے۔

جمعرات کو پارلیمنٹ کی کارروائی شدید ہنگامہ آرائی اور حکومت و اپوزیشن کے درمیان تند و تیز نوک جھونک کی نذر رہی۔ طلبہ پر پولیس کی جانب سے طاقت کے استعمال کا معاملہ اٹھاتے ہوئے اپوزیشن نے لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں ایوانوں میں زبردست نعرے بازی کی، جس کے باعث دونوں ایوانوں کی کارروائی کچھ ہی دیر بعد ملتوی کرنی پڑی۔ تاہم اس دوران سب سے زیادہ توجہ پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو اور حزب اختلاف کے لیڈر  ملیکارجن کھڑگے کے درمیان ہونے والی لفظی جنگ نے حاصل کی۔

کرن رجیجو کا اپوزیشن پر حملہ

ہنگامے کے دوران پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے اپوزیشن پر پارلیمانی قواعد کی خلاف ورزی کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ جب کوئی رکن ایوان میں اظہارِ خیال کر رہا ہو تو درمیان میں مداخلت کرنا قواعد کے خلاف ہے۔رجیجو نے براہِ راست ملیکارجن کھڑگے کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ روزانہ ایوان میں ایک ہی بات دہراتے ہیں۔ انہوں نے کانگریس کے نو منتخب رکن پارلیمنٹ پون کھیڑا پر بھی طنز کرتے ہوئے کہا کہ وہ ابھی حال ہی میں پارلیمنٹ پہنچے ہیں، اس لیے انہیں پہلے پارلیمانی قواعد کا مطالعہ کرنا چاہیے۔

کھڑگے کا سخت جواب

کرن رجیجو کے ان بیانات پر ملیکارجن کھڑگے نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔ راجیہ سبھا میں جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’کیا اب مجھے کرن رجیجو سے پارلیمانی قواعد سیکھنے پڑیں گے؟ میں بھی قواعد سے بخوبی واقف ہوں۔ اگر میں اپنا موضوع نہیں پڑھوں گا تو کیا آپ کا دیا ہوا موضوع پڑھوں؟‘‘ کھڑگے نے پون کھیڑا کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک تعلیم یافتہ شخص ہیں اور حکومت جان بوجھ کر اپوزیشن کے اراکین کی توہین کر رہی ہے۔

’’وزیر داخلہ ایوان میں آکر جواب دیں‘‘

حزب اختلاف کے لیڈر نے سابق بی جے پی رہنما ارون جیٹلی کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جمہوریت میں بعض اوقات احتجاج اور رکاوٹ بھی جمہوری عمل کا حصہ ہوتی ہے۔کھڑگے نے الزام لگایا کہ اپوزیشن ملک اور عوام سے متعلق اہم مسائل اٹھا رہی ہے، لیکن حکومت جواب دینے سے گریز کر رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ متعلقہ وزیر، یعنی مرکزی وزیر داخلہ، ایوان میں آکر اس پورے معاملے پر باضابطہ بیان دیں۔شدید ہنگامے کے باعث پارلیمنٹ کی کارروائی مکمل طور پر متاثر رہی اور دونوں ایوانوں میں معمول کا کام کاج نہیں ہو سکا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read