Bharat Express DD Free Dish

قومی

کشن گڑھ میں گاڑی کی پارکنگ کو لے کر ٹریفک سی او انجو یادو اور وکیل بابولال باگریا کے درمیان تنازع، وکلا نے سڑک جام کرکے احتجاج کیا۔

ہندوستان کی دفاعی برآمدات مالی سال 2025-26 میں بڑھ کر 38,424 کروڑ روپے کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ یہ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 62.66 فیصد زیادہ ہے۔ حکومت نے 2029 تک سالانہ دفاعی برآمدات کو 50,000 کروڑ روپے تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

دہلی میں احتجاج کے دوران ممتا بنرجی کے بعد عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کیجریوال کو بھی حراست میں لیے جانے کی خبر ہے۔ ڈیرک اوبرائن اور ڈولا سین کے خلاف بھی کارروائی کی اطلاعات ہیں۔ مظاہرے کے دوران تقریباً 2 ہزار افراد کو حراست میں لینے، ریس کورس کے قریب پتھراؤ اور 45 میٹرو اسٹیشن بند کیے جانے کے دعوے کیے گئے ہیں۔

ناگالینڈ کے نائب وزیر اعلیٰ ٹی آر زیلیانگ کے بیٹے کوچی رنگکاؤ زیلیانگ کے اچانک انتقال پر وزیر اعظم نریندر مودی سمیت کئی لیڈروں نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ لیڈروں نے سوگوار خاندان سے تعزیت کرتے ہوئے آنجہانی کی روح کے سکون کے لیے دعا کی۔

معطل کیے گئے کانسٹیبل کی شناخت ہنومنتھا کے نام سے ہوئی ہے۔ یہ واقعہ کمالاپورہ تعلقہ کے ہرسورو گاؤں میں پیش آیا، جہاں مقامی لوگوں نے ایک ویڈیو ریکارڈ کی۔ ویڈیو میں کانسٹیبل مسجد کی چھت پر شراب پیتا ہوا نظر آ رہا ہے۔

ممتا بنرجی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں مودی اور شاہ کی جوڑی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ چاہے وہ اقتدار کی حدود کو مسلسل پار کرنے کی کوشش کریں، لیکن کوئی بھی حکومت جواب دہی سے بالاتر نہیں ہے اور نہ ہی کوئی اقتدار ہمیشہ کے لیے رہتا ہے۔

ویڈیو میں کئی افراد کرسیوں پر بیٹھے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ وہاں پولیس کے کچھ افسران بھی موجود ہیں۔ ویڈیو ریکارڈ کرنے والا ایک شخص واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہتا ہے کہ دہلی میں الیکشن کمیشن کے خلاف ہونے والا احتجاج کسی سیاسی جماعت یا حکومت کی مخالفت کے لیے نہیں، بلکہ ایک ایسے آزاد ادارے کے خلاف لگائے گئے الزامات پر احتجاج ہے، جس پر انتخابی عمل میں بے ضابطگیوں کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔

ہفتہ کی صبح سی جے پی کے احتجاج سے قبل دہلی پولیس نے بڑی کارروائی کی۔ پولیس نے ابھجیت دپکے، سورَو داس اور آشو توش رانکا کو اس وقت حراست میں لے لیا، جب وہ طیارے میں سوار تھے۔

راہل گاندھی نے کہا کہ وہ 2004 میں سیاست میں آئے تھے اور اس وقت ہندوستان جمہوری طور پر ایک آزاد ملک تھا۔ تاہم، ان کے مطابق، 2014 میں کئی بنیادی تبدیلیاں کی گئیں، جن کے اثرات اب ہر ہندوستانی کے سامنے واضح ہونے جا رہے ہیں۔قائد حزب اختلاف نے کہا کہ انہیں بچپن سے ہی یہ سکھایا گیا ہے کہ انہیں ہمیشہ ہندوستان کے لوگوں کی آواز بننا ہے اور ان کے حقوق کے لیے پوری مضبوطی کے ساتھ بات کرنی ہے۔

احتجاج کرتے ہوئے کسانوں نے کہا کہ جمہوریت میں اپنے مطالبات حکومت کے سامنے رکھنا ہر شہری کا حق ہے۔ یونین کے عہدیداروں نے انتظامیہ سے اپیل کی کہ کسانوں کے آئینی اور جمہوری حقوق کا احترام کیا جائے اور انہیں پُرامن طریقے سے دھرنے اور احتجاج میں شرکت کی اجازت دی جائے۔