Bharat Express DD Free Dish

قومی

برکس سربراہی اجلاس 12 اور 13 ستمبر کو نئی دہلی میں ہوگا۔ اجلاس کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور غیر ملکی مہمانوں کے قیام اور آمد کا شیڈول بھی طے کر دیا گیا ہے۔

شوپیاں ضلع میں ہزاروں خاندانوں کی روزی روٹی بڑی حد تک سیب کے کاروبار پر منحصر ہے۔ باغبانوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے بروقت مداخلت نہیں کی تو موجودہ نقصان ایک بڑے اقتصادی بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

گلوان بحران سے غزہ اور تہران تک، برکس سربراہی اجلاس اس بات کی جانب اشارہ کر رہا ہے کہ یہ گروپ مغربی معاشی اور تزویراتی بالادستی کے مقابلے میں ایک اہم متبادل کے طور پر ابھر رہا ہے۔

دونوں لیڈروں کی یہ ملاقات بھارت اور روس کے باہمی تعلقات کے حوالے سے انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہے۔ پوتن کے دورہ بھارت کی تصدیق کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس بھارت کو اپنا اسٹریٹجک شراکت دار مانتا ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات ماسکو کے لیے انتہائی اہم ہیں۔

بچوں کے اغوا کے معاملات پر سپریم کورٹ نے سخت رخ اپناتے ہوئے مرکز اور ملک کی تمام ریاستی حکومتوں کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کیا ہے۔ عدالت میں دائر مفاد عامہ کی عرضی میں اغوا کے معاملات کی مقررہ مدت میں تحقیقات، خصوصی عدالتوں کے قیام اور ایسے جرائم سے حاصل ہونے والی غیر قانونی جائیداد ضبط کرنے کی مانگ کی گئی ہے۔

بہار کے وَیشالی ضلع میں بھارت مالا پروجیکٹ کے تحت زیر تعمیر 6 لین پل کا ایک حصہ اچانک گر گیا۔ حادثے میں 4 مزدور زخمی ہوئے ہیں۔ حادثے کے بعد آس پاس کے لوگ موقع پر پہنچے اور امدادی کارروائی شروع کی گئی۔

وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر بات چیت کی معلومات شیئر کرتے ہوئے کہا کہ چانسلر مرز کے ساتھ ان کی گفتگو دوستانہ اور بامعنی رہی۔ دونوں لیڈروں نے بھارت-جرمنی اسٹریٹجک شراکت داری کو آنے والے برسوں میں مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

سکیورٹی انتظامات کو بہتر انداز میں برقرار رکھنے کے لیے پوری دہلی کو مختلف سیکٹروں میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر سیکٹر کی ذمہ داری ڈپٹی کمشنر آف پولیس (ڈی سی پی) سطح کے افسران کو سونپی گئی ہے۔

اس سے قبل گزشتہ سال 13 اکتوبر کو عدالت نے مبینہ آئی آر سی ٹی سی اسکیم سے متعلق سی بی آئی کیس میں لالو یادو، ان کی اہلیہ رابڑی دیوی، بیٹے تیجسوی پرساد یادو اور 11 دیگر افراد کے خلاف دھوکہ دہی، مجرمانہ سازش اور انسدادِ بدعنوانی قانون کی دفعات کے تحت الزامات طے کیے تھے۔

سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کہا کہ قانون و نظم برقرار رکھنا بنیادی طور پر انتظامیہ کی ذمہ داری ہے، تاہم اگر اس اختیار کا استعمال ضرورت سے زیادہ یا غیر متناسب انداز میں کیا جاتا ہے تو عدالت اس کا جائزہ لے سکتی ہے۔ جسٹس باگچی نے کہا کہ ایسے معاملات میں اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر (ایس او پی) کی بات کرنا آسان ہے، لیکن عملی طور پر صورت حال مختلف ہو سکتی ہے۔