ایکناتھ شندے اور دیویندر فڑنویس کے درمیان اختلافات کی خبریں پھر سامنے آنے لگی ہیں۔
ایکناتھ شندے مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ عہدے سے منگل (26 نومبر) کو استعفیٰ دیں گے۔ ذرائع نے اس بات کی جانکاری دی۔ ان کے استعفیٰ کے بعد ہی نئی حکومت بننے کی قواعد شروع ہوگی۔ ضوابط کے تحت پہلے انہیں استعفیٰ دینا ہوگا۔ اس کے بعد ہی کوئی حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کرے گا۔ نیا وزیراعلیٰ کون ہوگا، اس پر ابھی تک تعطل برقرار ہے۔
بی جے پی حامیوں کی پہلی پسند ہیں دیویندرفڑنویس
بی جے پی کے لیڈران چاہتے ہں کہ اس باردیویندرفڑنویس کوریاست کے وزیراعلیٰ کی کرسی پربٹھایا جائے۔ پارٹی لیڈران اورحامیوں کی دلیل ہے کہ ریاست میں سب سے زیادہ سیٹوں پر بی جے پی فاتح ہوئی ہے اور ایسے میں وزیراعلیٰ کی کرسی پران کا حق بنتا ہے۔
شیوسینا چاہتی ہے کہ ایکناتھ شندے بنیں وزیراعلیٰ
دوسری طرف شیوسینا کا کہنا ہے کہ بہارجیسا فارمولہ مہاراشٹرمیں نافذ ہونا چاہئے۔ بہارمیں جنتا دل یونائیٹیڈ (جے ڈی یو) کی بی جے پی سے کم سیٹیں ہیں، پھریہاں نتیش کماروزیراعلیٰ کی کرسی پرقابض ہیں۔ وہیں دیویندر فڑنویس، ایکناتھ شندے اوراجیت پوارآج رات تک دہلی پہنچیں گے۔ یہاں وہ ایک میٹنگ میں شامل ہوں گے۔ بعد میں تینوں لیڈران کی بی جے پی کے قومی صدرجے پی نڈا اوروزیرداخلہ امت شاہ سے ملاقات ہوسکتی ہے۔ اسی ملاقات میں وزیراعلیٰ عہدے پر حتمی فیصلہ ہونے کی امید ہے۔
اجیت پوار کا کیا ہے موقف؟
وہیں، مہایوتی کے اتحادی اجیت پوار نے کہا ہے کہ ابھی تک وزیراعلیٰ عہدے سے متعلق کسی بھی فارمولے پر بحث نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تینوں پارٹیوں کے لیڈران ساتھ بیٹھیں گے اور پھر اس پر آخری فیصلہ لیا جائے گا۔ اجیت پوار بھلے ہی میٹنگ کے بعد فیصلے کی بات کررہے ہوں، لیکن ان کی پارٹی کے لیڈرن بیان دینے میں پیچھے نہیں ہیں۔ این سی پی کے لیڈر چھگن بھجبل نے کہا کہ اگر بہار والے فارمولے سے ایکناتھ شندے کو وزیراعلیٰ بننا چاہئے تو اجیت پوار کیوں نہیں ہوسکتے۔
-بھارت ایکسپریس
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


