Bharat Express DD Free Dish

قومی

ڈیٹا خودمختاری کی دوڑ میں برکس اپنے آزاد اور محفوظ کلاؤڈ انفراسٹرکچر کی حکمت عملی پر کام کر رہا ہے، تاہم مغربی ٹیکنالوجی کمپنیوں کا مقابلہ کرنا اور رکن ممالک کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا بڑا چیلنج ہے۔

دارالحکومت کے تمام 12 زونوں میں بڑے پیمانے پر کارروائی، 33 جائیدادوں کو منہدم کیا گیا، 5 کو سیل اور 29 معاملات میں وجہ بتاؤ نوٹس بھی  جاری کیا گیا۔

برکس کی مشترکہ کرنسی شروع کرنے کی فی الحال کوئی تجویز نہیں، مقامی کرنسی میں تجارت اور ادائیگی کے نظام کو فروغ دینے پر مسلسل بات چیت جاری: وزارت خارجہ

پیلی بھیت ٹائیگر ریزرو کے مصطفیٰ آباد میں ’انوائرمنٹ واریئرز‘ کے 10ویں جنگلی حیات تحفظ پروگرام کا انعقاد، ٹائیگر فرینڈز کے لیے 5 لاکھ روپے لائف انشورنس اور 2 لاکھ روپے ہیلتھ انشورنس کا اعلان

جامعہ ہمدرد نئی دہلی میں جلسۂ سیرت النبی ﷺ کے انعقاد کیا گیا جہاں مقررین نے سیرت نبیؑ کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالی۔

برکس سربراہی اجلاس 2026 کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی، روسی صدر ولادیمیر پوتن اور چینی صدر شی جن پنگ کی ایک ساتھ سامنے آنے والی تصویر نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کی ہے۔ تینوں رہنماؤں کی اس تصویر کو سفارتی اور سیاسی اعتبار سے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

ریاستی بی جے پی صدر بی وائی وجیندر نے ہفتے کو بتایا کہ ’سیوا سنکلپ ابھیان‘ 17 ستمبر سے شروع ہو کر 17 اکتوبر تک جاری رہے گا۔ بنگلورو واقع بی جے پی کے ریاستی دفتر ’جگن ناتھ بھون‘ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وجیندر نے کہا کہ پارٹی کے قومی صدر نتن نوین کی درخواست پر اس مہم کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد وزیر اعظم نریندر مودی کی طویل عوامی زندگی اور مرکزی حکومت کی مختلف فلاحی اسکیموں کو لوگوں تک پہنچانا ہے۔

مراٹھا ریزرویشن تحریک کے اہم لیڈر منوج جرنگے نے ممبئی میں بڑے احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ جرنگے نے کہا ہے کہ وہ اپنے حامیوں کے ساتھ 19 ستمبر سے ممبئی کے آزاد میدان میں غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک مراٹھا برادری کو ریزرویشن نہیں مل جاتا، تحریک جاری رہے گی۔

برکس کے نئی دہلی اعلامیے میں پہلگام دہشت گردانہ حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔ اعلامیے میں سرحد پار دہشت گردی، دہشت گردوں کی مالی معاونت اور انہیں محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے کے خلاف مؤثر کارروائی پر زور دیا گیا ہے۔

دنیا بھر میں توانائی کا بحران مسلسل گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ آبنائے ہرمز پہلے ہی متاثر ہے، جبکہ سعودی عرب نے عراقی علاقے سے ہونے والے متعدد ڈرون حملوں کے بعد اپنی خام تیل کی پائپ لائن عارضی طور پر بند کر دی ہے۔ دوسری جانب یمن کے بحیرہ احمر کے ساحل پر 18 گھنٹے تک جاری رہنے والے شدید حملے کے بعد حوثی باغی آبنائے باب المندب  پر کنٹرول حاصل کرنے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ یہ تینوں راستے عالمی تیل کی سپلائی کے لیے انتہائی اہم سمجھے جاتے ہیں۔