مہاراشٹرحکومت کے وزیر نتیش رانے نے اے آئی ایم آئی ایم اور اس کے سربراہ اسدالدین اویسی پر شدید حملہ بولا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی ایم آئی ایم کسی سیاسی جماعت کی طرح کام نہیں کر رہی بلکہ یہ ایک دہشت گرد تنظیم ہے۔ رانے نے اویسی کا موازنہ اسامہ بن لادن سے کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح لادن القاعدہ کے ذریعے کام کرتا تھا، اسی طرح اویسی اے آئی ایم آئی ایم کے ذریعے کام کر رہے ہیں۔
منشور اور ’جہاد‘ کا الزام
نتیش رانے نے الزام لگایا کہ اے آئی ایم آئی ایم کے منشور میں صرف جہاد کا ایجنڈا شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیسے پی ایف آئی پر پابندی لگائی گئی تھی، ویسے ہی اے آئی ایم آئی ایم پر بھی پابندی عائد ہونی چاہیے۔
ناسک کیس سے جڑا تنازع
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اے آئی ایم آئی ایم کے ایک کارپوریٹر پر ناسک ٹی سی ایس جنسی ہراسانی اور جبری مذہب تبدیلی کیس کے ملزم کو پناہ دینے کا الزام لگا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم ندا خان کو چھترپتی سمبھاجی نگر سے گرفتار کیا گیا، جبکہ اے آئی ایم آئی ایم کارپوریٹر متین پٹیل پر اسے اور اس کے خاندان کو چھپانے کا الزام ہے۔
اے آئی ایم آئی ایم کا ردعمل
اے آئی ایم آئی ایم لیڈر امتیاز جلیل نے کہا کہ وہ اس معاملے پر پارٹی عہدیداروں اور پولیس سے بات کریں گے۔ دوسری طرف ایس آئی ٹی اس کیس میں اب تک 9 الگ الگ ایف آئی آر درج کر چکی ہے اور 8 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ الزامات میں خواتین ملازمین کا استحصال، مذہب تبدیل کرانے کی کوشش اور ذہنی ہراسانی شامل ہیں۔
رانے کا دوبارہ الزام
نتیش رانے نے اے آئی ایم آئی ایم کو آئی ایس آئی اور پی ایف آئی جیسی تنظیموں سے جوڑتے ہوئے کہا کہ یہ پارٹی جمہوری سیاست نہیں بلکہ دہشت گرد سرگرمیوں کو فروغ دے رہی ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر اے آئی ایم آئی ایم پر پابندی لگانے کا مطالبہ دہرایا۔
سیاسی ماحول گرم
ناسک کیس اور اے آئی ایم آئی ایم کے کارپوریٹر پر لگے الزامات کے درمیان نتیش رانے کا یہ بیان سیاسی ماحول کو مزید گرماتا دکھائی دے رہا ہے۔ اویسی اور ان کی پارٹی پر لگائے گئے سنگین الزامات نے اے آئی ایم آئی ایم کی شبیہ پر بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


