جے ڈی یو نے 57 امیدواروں کی پہلی فہرست جاری کی، لیکن کسی بھی مسلم کو ٹکٹ نہیں دیا گیا ہے۔ (فائل فوٹو)
بہاراسمبلی الیکشن کے لئے ریاست میں برسراقتدارجنتا دل یونائیٹیڈ (جے ڈی یو) نے امیدواروں کی پہلی فہرست جاری کردی ہے۔ جے ڈی یو کی پہلی فہرست میں ایک بھی مسلم نام نہیں ہے۔ اس طرح سے جے ڈی یوکی فہرست پرسوال اٹھنے شروع ہوگئے ہیں۔ سوشل میڈیا پرالزام لگایا جا رہا ہے کہ جے ڈی یونے مسلمانوں سے پوری طرح سے دوری بنا لی ہے۔
جے ڈی یو نے گائے گھاٹ سیٹ سے کومل سنگھ کوٹکٹ دیا ہے۔ وہ ایل جے پی (آر) رکن پارلیمنٹ وینا دیوی کی بیٹی ہیں۔ کومل سنگھ کے والد دنیش سنگھ جے ڈی یوکے ایم ایل سی ہیں۔ قیاس آرائی کی جا رہی تھی کہ وہ ایل جے پی (رام ولاس) سے امیدوارہوں گی۔ حالانکہ جب یہ سیٹ جے ڈی یوکے کھاتے میں گئی تووہ وہاں سے امیدواربنائی گئیں۔
جے ڈی یو نے بربیگھہ کے موجودہ رکن اسمبلی سدرشن کمارکا ٹکٹ کاٹ دیا ہے۔ بربیگھہ سے کمار پشپنجے کوجے ڈی یونے امیدواربنایا ہے۔ اس کے ساتھ ہی کشیشورستھان سے امن بھوشن ہزاری کا ٹکٹ کاٹ دیا گیا ہے۔ پرسا سے چھوٹے لال یادوکوجے ڈی یونے ٹکٹ دیا ہے۔ چھوٹے لال یادوآرجے ڈی چھوڑکرجے ڈی یومیں شامل ہوئے تھے۔ سال 2020 میں چھوٹے لال آرجے ڈی سے جیتے تھے۔
فہرست میں ایک بھی مسلم امیدوار نہیں
نتیش کمارنے اپنی پارٹی کی پہلی فہرست میں ذات پات کے فارمولے کومد نظررکھتے ہوئے متوازن بنانے کی کوشش کی ہے، لیکن اس میں مسلمانوں کو پوری طرح سے نظراندازکردیا گیا ہے۔ پارٹی نے اپنی روایتی لوکش، یعنی کرمی-کشواہا، ذاتوں کوبڑی تعداد میں ٹکٹ دیئے ہیں۔ نتیش کمارنے ایک بھی مسلمان کونامزد نہیں کیا۔ ذات پات کے فارمولے کومدنظررکھتے ہوئے، فہرست میں 12 دلتوں، 9 کرمی، 6 کشواہا، 3 دھانوک، 6 بھومیہار، 5 راجپوت، 1 کایستھ، 1 برہمن، 5 ویشیا اور2 نشادوں کوٹکٹ دیا گیا ہے۔ پارٹی نے درج فہرست ذات کے 10 امیدواروں کوبھی موقع دیا ہے۔ حالانکہ کسی بھی مسلم کوامیدوارنہیں بنایا گیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
