Bharat Express DD Free Dish

Muslim Candidates

جہاں بہار اسمبلی انتخابات کے نتائج نے این ڈی اے کو زبردست کامیابی حاصل ہوئی ہے وہیں اسد الدین اویسی کی پارٹی اے آئی ایم آئی ایم نے سیمانچل علاقے میں ایک بار پھر اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا۔ اے آئی ایم آئی ایم نے پانچ سیٹیں جیتی ہیں۔

بہاراسمبلی الیکشن 2025 کے لئے جنتا دل یونائیٹیڈ (جے ڈی یو) نے 57 امیدواروں کی پہلی فہرست جاری کردی ہے۔ نتیش کمار نے اپنی پارٹی کی پہلی فہرست میں ذات پات کے فارمولے کو مدنظر رکھتے ہوئے متوازن بنانے کی کوشش کی ہے، لیکن مسلمانوں کو پوری طرح نظرانداز کردیا ہے۔

ہریانہ کی تمام سیٹوں پر ایک ہی مرحلے میں 5 اکتوبر کو ووٹنگ ہوئی تھی۔ رجحانات میں بی جے پی اور کانگریس کے درمیان مقابلہ دیکھا جا رہا ہے۔ بی جے پی ہیٹ ٹرک کا دعویٰ کر رہی ہے۔ جبکہ کانگریس دس سال بعد اقتدار میں واپسی کی امید کر رہی ہے۔

کانگریس امیدوار رقیب الحسین نے آسام کی دھوبری لوک سبھا سیٹ پر آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (AIUDF) کے سپریمو بدرالدین اجمل کو 10,12,476 ووٹوں کے ریکارڈ فرق سے شکست دی۔

روزے کی وجہ سے مسلم امیدوار دھوپ میں گھر گھر جا کر انتخابی مہم چلانے کے بجائے انڈور میٹنگ کر رہے ہیں۔ یہاں تک کہ اگر بعض مقامات پر انہیں دن میں انتخابی مہم کے لیے نکلنا پڑتا ہے تو وہ کھلے عام لوگوں سے خطاب کرنے کے بجائے ڈیروں یا خیموں میں جلسے کر رہے ہیں۔

اس فہرست میں کمل ناتھ کے بیٹے نکول کا نام شامل ہے، جو مدھیہ پردیش کے چھندواڑہ سے الیکشن لڑیں گے۔ وہیں سابق وزیر اعلی اشوک گہلوت کے بیٹے ویبھو گہلوت راجستھان کے جالور سے الیکشن لڑیں گے۔

 اترپردیش کی 10 راجیہ سبھا سیٹوں پر اس ماہ کے آخر میں الیکشن ہونا ہے۔ بی جے پی نے اپنے 8 امیدواروں کا اعلان کر دیا ہے۔ جبکہ سماجوادی پارٹی نے تین امیدوار اتارے ہیں، ایسے میں ایک سیٹ پر مقابلہ دلچسپ ہونے کا امکان ہے۔

بی جے پی نے یوپی بلدیاتی انتخابات کے لئے جن مسلم امیدواروں پر بھروسہ ظاہر کیا ہے، ان میں زیادہ ترامیدواروں کی تعداد پسماندہ طبقے سے ہے۔