Bharat Express DD Free Dish

NIA investigating Pahalgam terror attack: این آئی اے وسیع پیمانے پر پہلگام دہشت گردانہ حملے کی تحقیقات میں ہے مصروف، جیل میں بند لشکرِ طیبہ کے دو دہشت گردوں سے کی تفتیش

نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (NIA) کے اہلکار لشکر طیبہ کے دو دہشت گردوں مشتاق اور نثار سے پوچھ گچھ کر رہے ہیں جو فی الحال جموں کی جیل میں 2023 کے راجوری حملے سے متعلق کیس میں قید ہیں۔

نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (NIA) کے اہلکار لشکر طیبہ کے دو دہشت گردوں مشتاق اور نثار سے پوچھ گچھ کر رہے ہیں جو فی الحال جموں کی جیل میں 2023 کے راجوری حملے سے متعلق کیس میں قید ہیں۔ تفتیشی ایجنسی کے اہلکاروں کا ماننا ہے کہ پہلگام میں ہوئے دہشت گردانہ حملے اور راجوری دہشت گردانہ حملے میں مماثلتیں پائی جاتی ہیں۔

مشتاق اور نثار اپریل 2023 سے راجوری ضلع میں شہریوں پر دہشت گردانہ حملے کے معاملے میں جیل میں ہیں۔ راجوری حملے میں ایک آئی ای ڈی دھماکہ ہوا جس میں دو بچوں سمیت سات افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔ دریں اثنااین آئی کے تفتیش کاروں نے اپنی تحقیقات کا دائرہ بڑھا دیا ہے، کیوں کہ حملے کے وقت پہلگام کے علاقے میں ممنوعہ Huawei سیٹلائٹ فون کی نقل و حرکت سے متعلق ایک اہم لیڈ سامنے آئی ہے۔

ذرائع کے مطابق اہلکاروں کا ماننا ہے کہ چوں کہ چینی کمپنی Huawei بھارت میں ممنوع ہے، لہٰذا یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ فون پاکستان یا کسی اور غیر ملک سے اسمگل کیا گیا تھا۔ این آئی اے اب اپنی تحقیقات کو جموں و کشمیر کے سرحدی علاقوں تک بڑھا رہی ہے- بشمول مچل، کیرن، نوگام، بارہمولہ اور اُری، تاکہ پہلگام حملے میں ملوث دہشت گردوں کی دراندازی کے راستوں کا تعین کرنے اور ان کے ٹھکانوں کا پتہ لگایا جا سکے۔

جموں و کشمیر نے گزشتہ دو دنوں میں 100 سے زائد افراد کو حراست میں لیا

سیکورٹی ذرائع نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ جموں و کشمیر پولیس نے پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت مختلف افراد کے خلاف کارروائی کی ہے۔ گزشتہ دو دنوں کے دوران تقریباً 100 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ این آئی اے نے باضابطہ طور پر پہلگام دہشت گردانہ حملے کی جانچ اپنے ہاتھ میں لے لی ہے اور 27 اپریل کو اپنا کیس دوبارہ درج کیا۔

ایجنسی کی کئی ٹیمیں اب شواہد اکٹھا کرنے اور عینی شاہدین سے پوچھ گچھ کرنے میں مصروف ہیں، جن میں متاثرین کے رشتہ دار بھی شامل ہیں، تاکہ دہشت گردی کی وسیع سازش کا پردہ فاش کیا جا سکے۔ حملے کی ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ ملوث دہشت گردوں کی تعداد پانچ سے سات تک ہو سکتی ہے۔ حملہ آوروں کو کم از کم دو مقامی عسکریت پسندوں کی مدد بھی حاصل تھی جنھوں نے پاکستان میں تربیت حاصل کی تھی۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read