Bharat Express DD Free Dish

Red Fort Blast Case: لال قلعہ کار بم دھماکہ معاملے میں 7,500 صفحات پر مشتمل پہلی چارج شیٹ داخل، دہشت گردی، دھماکہ خیز مواد اور اسلحہ قوانین کے تحت مقدمہ

قومی تحقیقاتی ایجنسی نے اس مقدمے میں 10 افراد کو ملزم نامزد کیا گیا ہے، جن پر 10 نومبر 2025 کو ہوئے دھماکے میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ اس حملے میں 11 افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے تھے۔ این آئی اے نے کہا کہ ملزمان نے اے کے 47 رائفل، کرنکوف رائفل اور دیسی پستول سمیت ممنوعہ ہتھیار غیر قانونی طریقے سے حاصل کیے تھے۔

نئی دہلی: قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے لال قلعہ کے قریب ہوئے مہلک کار بم دھماکہ کیس میں بدھ کو خصوصی عدالت میں 7,500 صفحات پر مشتمل پہلی چارج شیٹ داخل کر دی۔ اس مقدمے میں 10 افراد کو ملزم نامزد کیا گیا ہے، جن پر 10 نومبر 2025 کو ہوئے دھماکے میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ اس حملے میں 11 افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے تھے۔ شدید نوعیت کے اس وی بی آئی ای ڈی (گاڑی میں نصب دیسی بم) دھماکے سے قومی دارالحکومت میں بڑے پیمانے پر تباہی بھی ہوئی تھی۔

ملزمان پر القاعدہ سے وابستگی کا الزام

این آئی اے کے مطابق تمام ملزمان، جن میں مرکزی ملزم عمر النبی بھی شامل ہے، انصار غزوۃ الہند سے وابستہ تھا، جو القاعدہ ان دی انڈین سب کانٹیننٹ کی ایک شاخ مانی جاتی ہے۔ وزارت داخلہ نے 2018 میں AQIS اور اس سے وابستہ تمام تنظیموں کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔ چارج شیٹ پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں این آئی اے کی خصوصی عدالت کے سامنے داخل کی گئی۔ این آئی اے کے مطابق عمر النبی، جو پلوامہ سے تعلق رکھتا تھا اور الفلاح یونیورسٹی میں میڈیسن کے اسسٹنٹ پروفیسر فائز رہ چکا تھا، دھماکے میں مارا جا چکا ہے۔ دیگر ملزمان میں عامر رشید میر، جاسر بلال وانی، ڈاکٹر مزمل شکیل، ڈاکٹر عادل احمد راتھر، ڈاکٹر شاہین سعید، مفتی عرفان احمد واگے، شعیب، ڈاکٹر بلال نصیر ملا اور یاسر احمد ڈار شامل ہیں۔ این آئی اے کے مطابق کچھ ملزمان ’’انتہا پسند نظریات‘‘ سے متاثر طبی پیشہ ور بھی تھے۔

’’آپریشن ہیونلی ہند‘‘ کے تحت حکومت گرانے کی سازش

تحقیقات کے مطابق ملزمان نے 2022 میں سری نگر میں خفیہ میٹنگ کے دوران تنظیم کو ’’اے جی یو ایچ انٹرم‘‘ کے نام سے دوبارہ منظم کیا تھا۔ این آئی اے کا دعویٰ ہے کہ ’’آپریشن ہیونلی ہند‘‘ کے نام سے منصوبہ بنا کر جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے اور شریعت نافذ کرنے کی سازش کی گئی۔ تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ ملزمان نے اسلحہ جمع کیا، دھماکہ خیز مواد تیار کیا اور مختلف قسم کے آئی ای ڈیز کا تجربہ کیا۔ دھماکے میں استعمال ہونے والا مواد ٹی اے ٹی پی (Triacetone Triperoxide) تھا، جسے ملزمان نے مختلف کیمیکل ملا کر تیار کیا تھا۔

ڈرون اور راکٹ سے حملوں کی بھی تیاری

این آئی اے نے کہا کہ ملزمان نے اے کے 47 رائفل، کرنکوف رائفل اور دیسی پستول سمیت ممنوعہ ہتھیار غیر قانونی طریقے سے حاصل کیے تھے۔ تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ وہ ڈرون اور راکٹ سے نصب آئی ای ڈیز کے تجربات کر رہے تھے تاکہ جموں و کشمیر اور ملک کے دیگر حصوں میں سکیورٹی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکے۔ این آئی اے کے مطابق ملزمان نے لیبارٹری کا سامان اور برقی آلات آن لائن اور آف لائن ذرائع سے خریدے تھے تاکہ اپنی سرگرمیوں کو وسعت دی جا سکے۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ اب تک 11 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ مفرور ملزمان کی تلاش جاری ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read