Bharat Express DD Free Dish

Red Fort blast case

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ ٹیم نے اپنی تازہ رپورٹ میں صاف کہا ہے کہ نومبر 2025 میں دہلی کے لال قلعہ کے پاس ہوئے حملے کے پیچھے القاعدہ ان انڈین سب کانٹینینٹ یعنی اے کیو آئی ایس کا ہاتھ تھا۔

قومی تحقیقاتی ایجنسی نے اس مقدمے میں 10 افراد کو ملزم نامزد کیا گیا ہے، جن پر 10 نومبر 2025 کو ہوئے دھماکے میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ اس حملے میں 11 افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے تھے۔ این آئی اے نے کہا کہ ملزمان نے اے کے 47 رائفل، کرنکوف رائفل اور دیسی پستول سمیت ممنوعہ ہتھیار غیر قانونی طریقے سے حاصل کیے تھے۔

این آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ اس معاملے کے تار صرف بھارت تک محدود نہیں ہیں بلکہ اس کے بین الاقوامی روابط بھی ہو سکتے ہیں۔ ایجنسی سازش کا پردہ فاش کرنے کے لیے ہر پہلو سے باریک بینی سے تحقیقات کر رہی ہے۔

تنازعات میں گھری الفلاح یونیورسٹی اور الفلاح چیریٹیبل ٹرسٹ کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے منی لانڈرنگ کے ایک بڑے معاملے میں سخت کارروائی کرتے ہوئے ٹرسٹ کے چیئرمین، چانسلر اور منیجنگ ٹرسٹی جواد احمد صدیقی کے خلاف خصوصی پی ایم ایل اے عدالت میں چارج شیٹ داخل کر دی ہے۔ ای ڈی نے اس کیس میں تقریباً 139.97 کروڑ روپے مالیت کی جائیداد بھی ضبط کر لی ہے۔

لال قلعہ کار بلاسٹ کیس کی تحقیقات میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے این آئی اے کی درخواست پر ڈاکٹر مُزمل سمیت دیگر گرفتار ملزمین کی ریمانڈ میں چار دن کی توسیع کر دی ہے۔

دہلی کے لال قلعہ کے قریب 10 نومبر کو ہونے والے تباہ کن خودکش کار بم دھماکے کی تحقیقات میں قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے بڑی پیش رفت کرتے ہوئے گرفتار ملزمین میں سے ایک ڈاکٹر شاہین سعید کو اہم پوچھ گچھ کے لیے ہریانہ کے فرید آباد منتقل کر دیا ہے۔

جعلی این اے اے سی(NAAC) اسناد، غلط یو جی سی دعووں، کروڑوں کی مبینہ ہیرا پھیری اور فیملی کمپنیوں کو فنڈز کی منتقلی کے شواہد کی بنیاد پر ای ڈی نے جواد احمد صدیقی کو پی ایم ایل اے کے تحت گرفتار کر لیا ہے۔