نیشنل کانفرنس کے سربراہ فاروق عبداللہ
جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے ہفتہ کو خبردار کیا کہ اگر جموں و کشمیر کا ریاست کا درجہ بحال کرنے میں تاخیر ہوتی رہی تو ان کی پارٹی کے پاس سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہے گا۔ نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے فاروق عبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر میں حکومت کے قیام کو ’’آٹھ مہینے ہو چکے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ جب یہاں ریاست کا درجہ بحال ہو جائے گا، تو ہمیں (انتظامی) اختیارات بھی مل جائیں گے… ہمارا موقف ہے کہ ابھی ہم انتظار کر رہے ہیں، لیکن اگر تاخیر ہوتی ہے تو ہمارے پاس سپریم کورٹ جانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہو گا۔‘‘
نیشنل کانفرنس کی ورکنگ کمیٹی میں منظور کی گئی قرارداد
فاروق عبداللہ کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب ان کی پارٹی نیشنل کانفرنس جموں و کشمیر کے ریاست کے درجے اور خصوصی حیثیت، دونوں کی بحالی کا پرزور مطالبہ کر رہی ہے۔ فاروق عبداللہ کی صدارت میں سری نگر میں پارٹی ہیڈکوارٹر میں منعقدہ اس کی ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ کے بعد انھوں نے یہ بیان دیا ہے۔ کمیٹی نے اس میٹنگ میں سات قراردادیں منظور کیں جن میں اہم سیاسی، سیکورٹی اور شہری حقوق کے مسائل کا احاطہ کیا گیا، جن میں جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت اور ریاستی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ مرکزی تھا۔
اے این آئی کے مطابق پارٹی نے کہا کہ ’’ورکنگ کمیٹی نے متفقہ طور پر جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی کے لیے اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ کمیٹی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ یہ لوگوں کی امنگوں اور وقار کا مرکز ہے اور اسے مزید تاخیر کے بغیر حل کیا جانا چاہیے۔ ہم اس کی بحالی کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔‘‘
ایران اور اسرائیل تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے: فاروق عبداللہ
دریں اثنا فاروق عبداللہ نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا۔ انھوں نے بڑھتی ہوئی جنگ کے درمیان سفارتی حل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ’’میں دعا کرتا ہوں کہ خدا ایران اور اسرائیل دونوں کو عقل دے۔ ٹرمپ کو امن کی بات کرنی چاہیے۔ یہ تنازع صرف امن سے ہی حل ہو سکتا ہے۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


