شرد پوار۔ (فائل فوٹو)
مہاراشٹر میں ادھوٹھاکرے کی پارٹی شیوسینا (یوبی ٹی) میں بغاوت کے بعد اب شرد پوارکی پارٹی میں بھی ٹوٹ کی قیاس آرائی کی جا رہی ہے۔ اس درمیان این سی پی (ایس پی) کے قومی ترجمان نسیم صدیقی نے اس پرردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ٹارگیٹ کیا جارہا ہے۔ میں مانتا ہوں کہ انہیں اقتدارکا لالچ بھی دیا جاتا ہوگا، لیکن ابھی ہمارے پاس اراکین اسمبلی اوراراکین پارلیمنٹ ہیں، وہ بڑی وفاداری کے ساتھ شرد پوارکے ساتھ ہیں اوروہ انہیں ماننے والے ہیں۔ انہوں نے کہا، ”ہمارے موجودہ اراکین پارلیمنٹ کی تعداد 8 ہے اور اراکین اسمبلی کی تعداد 10 ہے، مجھے نہیں لگتا ہے کہ ان میں سے کوئی شرد پوار کو چھوڑے گا۔ مجھے ایسا ہونے کا ابھی کوئی امکان نظرنہیں آتا ہے۔”
سیاست میں اب کوئی چیزناممکن نہیں: نسیم صدیقی
این سی پی (ایس پی) کے ترجمان نسیم صدیقی نے یہ بھی کہا کہ سیاست میں اب کوئی چیز ناممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا، ”محبت تو ہم نے تب بھی دیکھی ہے، جب ہماری این سی پی ٹوٹی۔ تو پہلے بھی شرد پوار ہی لیڈرتھے، لیکن اجیت دادا کے ساتھ بڑے پیمانے پرلوگوں نے پارٹی تبدیل کی۔ اب سیاست میں محبت، وفاداری اورایمانداری کے لئے کوئی جگہ نہیں رہی ہے۔”
قابل اعتماد اورایمانداری سیاست داں حاشیے پرہیں: نسیم صدیقی
شرد پوار گروپ کے لیڈرنے مزید کہا، ”ہم لوگ یہ مسلسل دیکھ رہے ہیں کہ جو لوگ قابل اعتماد ہیں، جوایماندار ہیں، وہ آج کنارے کردیئے گئے ہیں۔ وہ سیاست داں حاشیے پرپہنچ گئے ہیں۔ جو لوگ پارٹی بدل رہے ہیں، جومفاد پرست ہیں، وہ اقتدارمیں ہیں۔ سارا کھیل اقتدار کے لئے ہی ہو رہا ہے۔ اس لئے کسی بھی امکان سے انکارنہیں کیا جاسکتا ہے۔ واضح رہے کہ اس وقت مہاراشٹر کی سیاست میں ‘آپریشن ٹائیگر’ سے متعلق زوروشورسے قیاس آرائیاں ہو رہی ہے۔ ادھو ٹھاکرے (یوبی ٹی) کے 6 اراکین پارلیمنٹ کے پارٹی تبدیل کرنے سے سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ ہوگیا ہے۔ اس دوران الزام تراشی اورجوابی الزام تراشی کا دور چل رہا ہے۔
ادھوکے باغی اراکین پارلیمنٹ کی سیکورٹی میں اضافہ
شیوسینا (یوبی ٹی) کے 6 باغی اراکین پارلیمنٹ کی سیکورٹی میں اضافہ کردیا گیا ہے، ان میں سنجے دینا پاٹل، سنجے دیشمکھ، ناگیش پاٹل اشٹیکر، اوم راجے نمبالکر، بھاوصاحب واک چورے اورسنجے جادھو کے نام شامل بتائے جا رہے ہیں۔ یہ سبھی حال ہی میں پارٹی کی اہم میٹنگ سے ندارد رہے تھے، جس کے بعد یہ قیاس آرائیاں مزید تیزہوگئیں کہ یہ لیڈرپارٹی سے الگ ہوکرکسی دیگرگروپ میں شامل ہوسکتے ہیں یا نئے سیاسی حالات بناسکتے ہیں۔ حالانکہ ان دعووں کی ابھی تک کسی فریق کی طرف سے باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ حالانکہ سوشل میڈیا پریہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یوبی ٹی کے باغی 6 اراکین پارلیمنٹ اب ایکناتھ شندے کی شیوسینا میں شامل ہوسکتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

