وزیر اعظم نریندر مودی۔
نئی دہلی: نیٹ (نیٹ) پیپرلیک تنازعہ کے بعد مودی حکومت امتحانی نظام میں بڑے پیمانے پراصلاحات کی تیاری میں مصروف ہے۔ اسی سلسلے میں نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کے 47 افسران کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے، جبکہ ان میں سے بعض کے خلاف قانونی اورفوجداری کارروائی بھی کی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق، حکومت آئندہ ایک ماہ کے اندراین ٹی اے کے پورے ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ ماہرین کی کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پرایجنسی کے آؤٹ سورسنگ نظام میں بھی اصلاحات کی جائیں گی، تاکہ امتحانی عمل کو زیادہ محفوظ اورشفاف بنایا جا سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک ایسا نیا نظام تیارکیا جا رہا ہے، جس میں سوالیہ پرچہ لیک ہونے کا کوئی امکان نہ رہے۔ اسی مقصد کے تحت این ٹی اے میں وسیع پیمانے پرانتظامی اصلاحات نافذ کی جا رہی ہیں۔ برطرف کئے گئے 47 افسران میں سے بعض کے خلاف قانونی اورفوجداری مقدمات بھی درج کئے جائیں گے، جبکہ مزید اصلاحی اقدامات بھی متوقع ہیں۔
امتحانی نظام میں شفافیت بڑھانا حکومت کا مقصد
حکومت کا کہنا ہے کہ مجوزہ اصلاحات کا بنیادی مقصد امتحانی نظام میں شفافیت بڑھانا، پیپرلیک جیسے واقعات پرمؤثرروک لگانا اورامیدواروں کا اعتماد بحال کرنا ہے۔ اس منصوبے کے تحت امتحانات کے انعقاد، سوالیہ پرچوں کی حفاظت، نگرانی کے نظام اورجوابدہی سے متعلق متعدد نئے ضابطے نافذ کئے جائیں گے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ مضبوط اورجدید انتظامی نظام کے ذریعہ مستقبل میں امتحانات میں بے ضابطگیوں کے امکانات کوبڑی حد تک ختم کیا جاسکتا ہے۔
پیپرلیک پرسزا قانون بنانے والے بل کو کابینہ کی منظوری
اس سے پہلے جمعہ کے روزمودی کابینہ نے میٹنگ میں پیپرلیک پرسزا کے قانون کوسخت بنانے سے متعلق بل کومنظوری دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس میٹنگ کے بعد وزیراعظم مودی اوروزیرداخلہ امت شاہ نے بھی میٹنگ کی۔ بل میں پیپرلیک کے آرگنائزڈ کرائم کے معاملے میں 10 سال کی سزا اور 10 کروڑروپئے جرمانے کا التزام رکھا ہے۔ اگلے ہفتے پارلیمنٹ میں اس بل کو پیش بھی کیا جائے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
