ناگپور تشدد میں شدید زخمی ہوئے عرفان انصاری کی موت ہوگئی ہے۔
Nagpur Violence Case Update: ناگپورتشدد معاملے میں اب قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) کی انٹری ہوگئی ہے۔ این آئی اے کے افسران نے چھترپتی سنبھاجی نگرمیں اورنگ زیب کے مقبرہ کا دورہ کیا اوروہاں کے پولیس افسران سے ملاقات کرکے ابتدائی معلومات جمع کی۔ این آئی اے ذرائع کے مطابق، افسران نے اورنگ زیب کی قبراوراس کے آس پاس کے علاقے کا جائزہ لیا۔ افسران نے وہاں کے سینئرپولیس افسران سے ملاقات کرکے تشدد سے متاثرہ علاقے کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ بنگلہ دیشی کنکشن سامنے آنے کے بعد این آئی اے اس معاملے میں جلد ہی کیس درج کرکے جانچ شروع کر سکتی ہے۔
ناگپورتشدد میں سامنے آیا بنگلہ دیشی کنشکن
اورنگ زیب کا مقبرہ ہٹانے سے متعلق پیر(17 مارچ) کوناگپورمیں تشدد ہوگیا تھا، جس میں ڈی سی پی سمیت کچھ پولیس اہلکار زخمی ہوگئے تھے۔ شرپسندوں نے گاڑیوں میں توڑپھوڑکی، پٹرول بم پھینکے، پتھراؤ کیا اورکچھ گھروں پر حملہ کیا تھا۔ اس معاملے میں 10 ایف آئی آر درج کی گئی تھی جبکہ 90 سے زیادہ لوگوں کوگرفتارکیا گیا۔ بعد میں پولیس نے دعویٰ کیا کہ اس تشدد میں بنگلہ دیشی کنکشن سامنے آیا ہے۔
فہیم خان کو بتایا گیا تشدد کا ماسٹر مائنڈ
فہیم شمیم خان کوپولیس نے بدھ (19 مارچ) کوگرفتارکیا تھا، جسے عدالت نے 21 مارچ تک کی پولیس حراست میں بھیجا تھا۔ اس پر500 سے زیادہ شرپسندوں کوجمع کرکے تشدد کو بڑھاوا دینے کا الزام ہے۔ فہیم خان سمیت 6 ملزمین کے خلاف ملک سے غداری کا معاملہ درج کیا گیا ہے۔
تشدد کیسے ہوا؟
دراصل، اورنگ زیب کی قبرہٹانے کے لئے وشوہندو پریشد نے گزشتہ پیرکوناگپورمیں احتجاج کیا۔ اس دوران مغل حکمراں اورنگ زیب کا پتلا نذرآتش کیا گیا۔ اس دوران قرآن مقدس کی آیات والی چادرنذرآتش کئے جانے کی بات بھی سامنے آئی۔ اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد ناگپورکے محل علاقے میں تشدد بھڑک گیا۔ مشتعل ہجوم نے پتھراؤ کیا اورتوڑپھوڑشروع کردی۔ شرپسندوں نے گھروں پرپتھراؤکیا اورسڑکوں پرکھڑی گاڑیوں کوآگ کے حوالے کردیا۔ اس دوران پولیس پربھی حملہ کیا گیا۔ ڈی سی پی نکیتن پرکلہاڑی سے حملہ کرنے کی بات سامنے آئی۔ ہجوم کوکنٹرول کرنے کے لئے پولیس نے آنسوگیس کے گولے داغے اورلاٹھی چارج کیا۔ اس علاقے میں مسلسل بڑی تعداد میں پولیس فورس کو تعینات کیا گیا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


