مودی حکومت نے ریاست کرناٹک کے آم کے کسانوں کے لیے ’’قیمت کم، ادائیگی زیادہ‘‘ (پی ڈی پی ایس) کے تحت معاوضے کا اعلان کیا ہے، جو آم کی قیمتوں میں گراوٹ کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں۔ یہ رقم مرکز اور ریاستی حکومت کی طرف سے مشترکہ طور پر دی جائے گی۔ مرکزی زراعت اور کسانوں کی بہبود کے وزیر شیوراج سنگھ چوہان نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہوئے بتایا کہ ’’کرناٹک میں آم کی گرتی ہوئی مارکیٹ قیمت سے پیدا ہونے والی صورت حال کو دیکھتے ہوئے، مرکزی حکومت نے یہ یقینی بنانے کے لیے ایک اہم فیصلہ کیا ہے کہ کسانوں کو ان کی پیداوار کی مناسب قیمت ملے۔‘‘
کسانوں کو نہ ہو نقصان
مرکزی وزیر شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ ’’میں نے کرناٹک کے وزیر زراعت این چیلوواریا سوامی کے ساتھ اس معاملے پر تفصیلی بات چیت کی ہے۔ اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ کسانوں کو تقریباً 2.5 لاکھ میٹرک ٹن آم کے لیے ’’قیمت کم، ادائیگی زیادہ اسکیم‘‘ کے تحت معاوضہ دیا جائے گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’’وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں کسانوں کی فلاح و بہبود مرکزی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ہماری حکومت ہر حال میں کسانوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے۔ کسانوں کو ان کی محنت کی پوری قیمت دلوانا ہمارا غیر متزلزل ہدف ہے۔‘‘
مرکزی وزیر پرہلاد جوشی نے ادا کیا حکومت کا شکریہ
دریں اثنا مرکزی خوراک، عوامی تقسیم اور صارفین کے امور کے وزیر پرہلاد جوشی نے کرناٹک میں آم کے کسانوں کو معاوضہ دینے کی یقین دہانی پر مرکزی حکومت کا شکریہ ادا کیا ہے۔ مرکزی وزیر جوشی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کہا کہ ’’وزیر اعظم نریندر مودی کی دور اندیش قیادت اور مرکزی زراعت اور کسانوں کی بہبود کے وزیر شیوراج چوہان کی فعال کوششوں کی وجہ سے، کرناٹک میں آم کے کاشتکاروں کو مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کے باوجود مناسب معاوضہ کا یقین دلایا گیا ہے۔‘‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’’یہ اقدام ہمارے کسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے حکومت کے عزم کی تصدیق کرتا ہے۔ ہم اس حمایت کے لیے شکریہ ادا کرتے ہیں۔‘‘ واضح رہے کہ 13 جون کو کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارامیا نے مرکزی وزیر زراعت شیوراج سنگھ چوہان سے ریاست کے آم کے کسانوں کے لیے فوری طور پر معاوضے کا مطالبہ کیا تھا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



