Bharat Express DD Free Dish

Explained: بھارت کے کن انتخابات میں آج بھی بیلٹ پیپر استعمال ہوتے ہیں اور کیوں؟

ای وی ایم کے ساتھ وی وی پی اے ٹی کی پرچیوں کا ملاپ، سیاسی جماعتوں کے لیے یکساں نگرانی اور الیکشن کمیشن کی ادارہ جاتی خودمختاری جیسے اقدامات ضروری ہیں۔ صرف مشین بدلنے سے انتخابات نہیں جیتے جاتے اور محض سوال اٹھانے سے جمہوریت مضبوط نہیں ہوتی۔

بھارت میں لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) کا استعمال عام ہو چکا ہے، لیکن بیلٹ پیپر یعنی کاغذی ووٹ ڈالنے کا نظام مکمل طور پر ختم نہیں ہوا ہے۔ صدر اور نائب صدر کے انتخابات سے لے کر پنچایت اور بلدیاتی انتخابات تک، آج بھی کئی انتخابی عمل میں بیلٹ پیپر استعمال کیے جاتے ہیں۔ حال ہی میں اکتوبر 2026 میں اتر پردیش، کرناٹک، بہار اور مہاراشٹر میں قانون ساز کونسل کی 28 نشستوں پر انتخابات مکمل طور پر بیلٹ پیپر کے ذریعے کرائے گئے۔ آئیے، اس وضاحتی رپورٹ میں سمجھتے ہیں کہ بیلٹ پیپر اب کہاں اور کیوں استعمال ہوتے ہیں، اپوزیشن کے دلائل کیا ہیں اور اس بحث کی اصل حقیقت کیا ہے۔

بیلٹ پیپر اب بھی کہاں اور کیوں استعمال ہوتے ہیں؟

بیلٹ پیپر کا استعمال بنیادی طور پر آئینی اور بالواسطہ انتخابات میں ہوتا ہے، جہاں ووٹروں کی تعداد محدود ہوتی ہے اور رازداری و درستگی کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے۔

صدر جمہوریہ  اور نائب صدر کے انتخابات: ان انتخابات میں صرف منتخب اراکین پارلیمنٹ اور اراکین اسمبلی ووٹ ڈالتے ہیں۔ ان انتخابات میں آج بھی بیلٹ پیپر استعمال کیے جاتے ہیں۔

راجیہ سبھا اور قانون ساز کونسل (ایم ایل سی) کے انتخابات: قانون ساز کونسل کے انتخابات خاص طور پر بیلٹ پیپر کے ذریعے ہی کرائے جاتے ہیں۔

پنچایت انتخابات: وزارتِ پنچایتی راج کے تعاون سے بھارتی ادارہ برائے عوامی انتظامیہ (آئی آئی پی اے) کی 2023 کی رپورٹ کے مطابق، 53 فیصد ریاستوں میں گرام پنچایت کے انتخابات بیلٹ پیپر کے ذریعے ہوتے ہیں۔ صرف کیرالہ، سکم، دادر و نگر حویلی اور دمن و دیو میں تمام گرام پنچایت نشستوں پر ای وی ایم استعمال کی جاتی ہیں۔ تریپورہ میں 2026 کے تین سطحی پنچایت انتخابات بھی مکمل طور پر بیلٹ پیپر کے ذریعے کرائے گئے۔

بلدیاتی انتخابات: یہ انتخابات ریاستی الیکشن کمیشنوں کے دائرۂ اختیار میں آتے ہیں، اس لیے وہی طے کرتے ہیں کہ انتخابات ای وی ایم سے ہوں گے یا بیلٹ پیپر سے۔ مثال کے طور پر، دہلی میونسپل کارپوریشن کے انتخابات ای وی ایم سے ہوتے ہیں، جبکہ پنجاب نے 2026 میں بیلٹ پیپر کے ذریعے انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

ای وی ایم کے باوجود بیلٹ پیپر کیوں استعمال ہوتے ہیں؟

ای وی ایم دستیاب ہونے کے باوجود بیلٹ پیپر استعمال کرنے کی دو بڑی وجوہات ہیں:

مالی رکاوٹیں اور بیداری کی کمی: کئی ریاستوں کا ماننا ہے کہ پنچایت انتخابات میں ای وی ایم کے استعمال کی راہ میں فنڈز کی کمی اور عوامی بیداری کا فقدان بڑی رکاوٹیں ہیں۔ اڈیشہ کے ریاستی الیکشن کمشنر مدھوسودن پادھی کے مطابق، پنچایت انتخابات کے لیے تقریباً 3.36 لاکھ ای وی ایم کی ضرورت ہوگی، جو فی الحال دستیاب نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ ای وی ایم کا استعمال مہنگا بھی ہے۔

پوسٹل بیلٹ: لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات میں بھی فوج اور پولیس کے اہلکاروں سمیت سروس ووٹروں، انتخابی ڈیوٹی پر تعینات ملازمین، بعض زمروں کے بزرگ شہریوں اور معذور افراد کو پوسٹل بیلٹ کے ذریعے ووٹ ڈالنے کی سہولت دی جاتی ہے۔

اپوزیشن بیلٹ پیپر کو زیادہ شفاف کیوں بتاتی ہے؟

کانگریس اور سماج وادی پارٹی سمیت کئی اپوزیشن جماعتوں کا استدلال ہے کہ ای وی ایم میں خرابی یا چھیڑ چھاڑ کا امکان زیادہ ہے، جبکہ بیلٹ پیپر کے ذریعے ووٹنگ کا عمل زیادہ شفاف ہے۔ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، پرینکا گاندھی واڈرا اور رکن پارلیمنٹ منیش تیواری جیسے لیڈر بارہا ای وی ایم کے قابلِ اعتماد ہونے پر سوال اٹھا چکے ہیں اور ’ووٹ چوری‘ کے الزامات بھی لگا چکے ہیں۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ ای وی ایم کی پروگرامنگ میں ردوبدل کیا جا سکتا ہے، جبکہ بیلٹ پیپر میں اس طرح کی گنجائش نہیں ہوتی۔ ووٹر اپنی آنکھوں سے کاغذ پر اپنے ووٹ کی تصدیق بھی کر سکتا ہے۔

ای وی ایم بمقابلہ بیلٹ پیپر: اصل حقیقت کیا ہے؟

بیلٹ پیپر کے حق میں دلائل:

شفافیت: ووٹنگ اور گنتی کا عمل شفاف ہوتا ہے۔ ہر ووٹ کاغذ پر درج ہوتا ہے، جس کی دوبارہ گنتی کی جا سکتی ہے۔

آسان تصدیق: ووٹر کاغذ پر اپنا ووٹ دیکھ سکتا ہے، جس سے ای وی ایم میں کسی بھی طرح کی خرابی کے خدشات کم ہوتے ہیں۔

لیکن بیلٹ پیپر کے اپنے مسائل بھی ہیں:

سست عمل: ووٹنگ اور گنتی میں کافی وقت لگتا ہے۔ مثال کے طور پر، ناگپور گریجویٹ حلقے کی ایک نشست پر ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے میں 40 گھنٹے سے زیادہ وقت لگا تھا۔

مہنگا اور محنت طلب نظام: بیلٹ پیپر کی چھپائی، نقل و حمل اور گنتی کے لیے بڑی مقدار میں کاغذ، رقم اور انسانی وسائل درکار ہوتے ہیں۔ وزارتِ پنچایتی راج کی رپورٹ میں بھی اسے ایک بڑا چیلنج قرار دیا گیا ہے۔

دھاندلی کا خطرہ: بیلٹ پیپر کے دور میں بوتھ پر قبضہ اور ووٹ کی پرچی چھیننے جیسے واقعات عام تھے۔ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ نشی کانت دوبے نے 1972 کی ایک دستاویز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس وقت بیلٹ پیپر کے ذریعے ہونے والے انتخابات میں کانگریس نے بوتھ پر قبضے اور تشدد کے ذریعے دھاندلی کی تھی۔

ای وی ایم کے حق میں دلائل:

تیز اور مؤثر نظام: ای وی ایم کے ذریعے ووٹنگ اور ووٹوں کی گنتی بہت تیزی سے ہوتی ہے، جس سے انتخابی عمل آسان ہو جاتا ہے۔

محفوظ نظام: الیکشن کمیشن کا دعویٰ ہے کہ ای وی ایم محفوظ ہیں اور ان میں چھیڑ چھاڑ نہیں کی جا سکتی۔ ان مشینوں کو ہیک کرنا ممکن نہیں ہے، کیونکہ یہ اسٹینڈ الون مشینیں ہیں اور کسی نیٹ ورک سے منسلک نہیں ہوتیں۔

صرف مشین بدلنے سے انتخابات نہیں جیتے جاتے

قانون ساز کونسل کی 28 نشستوں کے نتائج نے اس بحث کو ایک نیا رخ دے دیا ہے۔ بی جے پی اب اپوزیشن پر یہ کہتے ہوئے حملہ کر رہی ہے کہ اگر بیلٹ پیپر ہی درست راستہ تھا تو کانگریس کو شکست کیوں ہوئی؟ وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی اسی بات پر طنز کیا۔ دوسری جانب کانگریس کا کہنا ہے کہ انتخابی عمل کی ساکھ پر سوال اٹھانا جائز ہے، چاہے نتائج کچھ بھی ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ بیلٹ پیپر ہو یا ای وی ایم، کوئی بھی نظام اپنے آپ میں نہ مکمل طور پر غیر جانبدار ہے اور نہ ہی مکمل طور پر خامیوں سے پاک۔ بیلٹ پیپر میں شفافیت ہے، لیکن اس کا عمل سست اور مہنگا ہے، جبکہ دھاندلی کا خطرہ بھی موجود رہتا ہے۔ دوسری طرف ای وی ایم تیز اور مؤثر ہے، لیکن اس کی شفافیت کے حوالے سے شکوک و شبہات برقرار ہیں۔

اس بحث کا اصل حل صرف مشین بدلنے میں نہیں، بلکہ انتخابی عمل پر عوام کے اعتماد کو مضبوط بنانے میں ہے۔ ای وی ایم کے ساتھ وی وی پی اے ٹی کی پرچیوں کا لازمی اور بڑے پیمانے پر ملاپ، سیاسی جماعتوں کو نگرانی کے یکساں مواقع فراہم کرنا اور الیکشن کمیشن کی ادارہ جاتی خودمختاری جیسے اقدامات ضروری ہیں۔ صرف مشین بدلنے سے انتخابات نہیں جیتے جاتے اور محض مشین پر سوال اٹھانے سے جمہوریت مضبوط نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ اپوزیشن مشینوں سے زیادہ مشین آپریٹ کرنے والے افسران اور اداروں کی کارکردگیوں پر سوال اٹھا رہی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read