Bharat Express DD Free Dish

G20 Dinner Invitation: انڈیا کی جگہ بھارت نام استعمال کئے جانے پر کیا کچھ بولیں محبوبہ مفتی؟

 محبوبہ مفتی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (سابقہ ​​ٹویٹر) پر پوسٹ کیا اور اس میں لکھا کہ ‘تنوع میں ہندوستان کے اتحاد کے بنیادی اصول کے لیے بی جے پی کی ناپسندیدگی ایک نئی نچلی سطح پر پہنچ گئی ہے۔ 

جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی۔ (فائل فوٹو)

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی سربراہ محبوبہ مفتی نے سری نگر میں اپنی سابق اتحادی بی جے پی پر شدید حملہ کیا۔ بی جے پی پر الزام لگاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی پارلیمنٹ میں اپنی اکثریت کے زور پر پورے ملک کو اپنی جاگیر سمجھ رہی ہے۔

 محبوبہ مفتی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (سابقہ ​​ٹویٹر) پر پوسٹ کیا اور اس میں لکھا کہ ‘تنوع میں ہندوستان کے اتحاد کے بنیادی اصول کے لیے بی جے پی کی ناپسندیدگی ایک نئی نچلی سطح پر پہنچ گئی ہے۔  انڈیا اور بھارت  سے لے کر ہندوستان تک کئی ناموں کی اہمیت کو کم کرکے اب صرف بھارت کرنا اس کی تنگ نظری اور عدم برداشت کو ظاہر کرتا ہے۔

محبوبہ مفتی نے کیا کہا؟

سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کا یہ تبصرہ کانگریس کے اس الزام کے بعد آیا ہے کہ ڈنر کی دعوت میں صدر کو ‘پرسیڈنٹ آف انڈیا کے بجائے پرسیڈنٹ آف بھارت ‘ کہہ کر مخاطب کیا گیا ہے۔

اس معاملے پر حکومت کی طرف سے ابھی تک کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا، ’’ہندوستان کی آزادی کے بعد کی تاریخ میں پہلی بار، زبردست اکثریت والی جماعت پورے ملک کو اپنی جاگیر سمجھ رہی ہے۔‘‘ لیکن ساتھ ہی ایک مبینہ دعوت نامہ بھی پوسٹ کیا۔ ہندوستان کے صدر کا کارڈ، جس پر لکھا ہے، ‘ہندوستان کے صدر۔’ ان کی طرف سے پوسٹ کیے گئے دعوتی کارڈ کی صداقت کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

  بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read