Bharat Express DD Free Dish

Himachal Pradesh: سرکاری بس میں آڈیو چلا کر آچاریہ پرمود کرشنم کا پروگرام سننے والے شخص کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے کا الزام

ہماچل پردیش کی سرکاری بس میں آچاریہ پرمود کرشنم کے پروگرام کی آڈیو چلا کر دوسرے لیڈروں کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔

سرکاری بس میں آڈیو چلا کر آچاریہ پرمود کرشنم کا پروگرام سننے والے شخص کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے کا الزام

Himachal Pradesh: حال ہی میں ہماچل پردیش کی ایک سرکاری بس میں عوام کے درمیان اونچی آواز میں ایک آڈیو پروگرام چلایا جا رہا تھا۔ جس میں آچاریہ پرمود کرشنم اور دیگر کے درمیان بات چیت ہو رہی تھی۔ مبینہ آڈیو میں مرکزی حکومت میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی، حکومت ہند اور وقفے وقفے سے اکھلیش یادو، ممتا اور تیجسوی یادو کا نام بھی لیا جا رہا تھا۔ الزام ہے کہ ریاستی حکومت کی بس میں آڈیو چلا کر پروپیگنڈہ کیا جا رہا تھا۔

اس پر آچاریہ پرمود کرشنم نے بھی اپنا رد عمل ظاہر کیا ہے اور ایکس پر ایک پوسٹ کرتے ہوئے ریاستی حکومت پر طنز کیا ہے۔ انہوں نے اپنی پوسٹ میں ہماچل پردیش کے وزیر اعلیٰ سکھوندر سنگھ سکھو اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا کہ، کیا ”ہماچل“ میں ”ایمرجنسی“ لاگو ہے؟

انڈر سیکرٹری کو کی گئی شکایت

شکایت کنندہ سیموئل پرکاش نے اس واقعہ کی شکایت وزیر اعلیٰ ہماچل پردیش کے انڈر سکریٹری سے کی۔ جس کے بعد ہماچل پردیش روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کے سب ڈویژنل منیجر نے بس ڈرائیور کو حکم جاری کرتے ہوئے تین دن کے اندر وضاحت طلب کی ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ کسی بھی سیاستدان کے خلاف اس طرح کی گفتگو کی آڈیو کو سرکاری گاڑی میں کھلے عام چلانا مناسب نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں- Sambhal Violence: ایس پی کے 15 لیڈروں کا وفد آج کرے گا سنبھل کا دورہ، اکھلیش یادو کو سونپے گا رپورٹ

کب کا ہے معاملہ؟

ہماچل پردیش روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن ڈپارٹمنٹ نے ایک نوٹس جاری کیا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ یکم نومبر 2024 کو شملہ سے سنجولی جانے والی بس میں عوامی طور پر ایک آڈیو پروگرام چلایا گیا۔ لیکن اب بس ڈرائیور سے کہا گیا ہے کہ وہ تین دن کے اندر اس معاملے پر وضاحت دیں۔

-بھارت ایکسپریس



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read