کونگریس کے صدر ملیکارجن کھرگے نے پڈوچیری کی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ آج ووٹ دے کر بدعنوانی، بے روزگاری، منشیات، کاغذی دھاندلی اور زمین و وسائل کے غلط استعمال کے خلاف اپنا فیصلہ ظاہر کریں۔ انہوں نے کہا:”پڈوچیری کے میرے عزیز بہنوں اور بھائیوں، اب وقت آ گیا ہے کہ ریاست کا درجہ ملے، روزگار ملے، حفاظت ہو، ایماندار حکومت ہو اور ہر شہری کو عزت ملے۔ اپنے بچوں کے مستقبل کو محفوظ کرنے، پڈوچیری کی ترقی کو بحال کرنے اور عوام کے لیے کام کرنے والی حکومت کو واپس لانے کے لیے اپنا ووٹ استعمال کریں۔ تبدیلی کے لیے ووٹ دیں، ایمانداری کے لیے ووٹ دیں۔ جے ہند، جے پڈوچیری۔”
ملیکارجن کھرگے نے زور دے کر کہا کہ یہ ذمہ داری دوبارہ عوام کے کندھوں پر ہے اور انہوں نے کیریالہ کے عوام سے بھی کہا:”آپ نے ہمیشہ تعلیم، وقار،سیکولراقداراورسماجی انصاف کی حمایت کی ہے۔ اب ایک بار پھر، یہ ذمہ داری آپ کے کندھوں پر ہے۔”
کانگریس کا کیرالہ میں جیت کا دعویٰ وزیراعلیٰ کے امیدوار کے حوالے سے اہم اعلان
اپنا ووٹ ڈالنے کے بعد، کیرالہ ریاستی کانگریس کے صدر اور پیراوور سے امیدوار، سنی جوزف نے کہا، “یو ڈی ایف اکثریت سے جیتے گی۔ یو ڈی ایف 100 سے زیادہ سیٹیں جیتنے کے لیے تیار ہے۔ بلدیاتی انتخابات کے نتائج کو بھی دہرایا جائے گا۔عوام کا ہم پراعتماد ہے۔ میں عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنے حق رائے دہی کا استعمال دانشمندی کے ساتھ کریں اور یو ڈی ایف کی حکومت مخالف پالیسیوں کو منتخب کریں۔ موجودہ حکومت کو مسترد کیا جا سکتا ہے وزیر اعلیٰ کے نام کا فیصلہ ہائی کمان سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔
اس وقت کےکیرالہ، آسام اور پڈوچیری میں اسمبلی انتخابات کے لیے صبح 7 بجے سے ووٹنگ جاری ہے۔ آسام میں 126، کےریالہ میں 140 اور پڈوچیری میں 30 سیٹوں کے لیے ووٹ ڈالا جا رہا ہے۔ ووٹنگ صبح 7 بجے سے شام 5 بجے تک ہوگی اور نتائج 4 مئی کو اعلان کیے جائیں گے۔
حالیہ انتخابات میں، کےکیرالہ میں 883 امیدوار میدان میں ہیں، یعنی فی سیٹ اوسطاً 6 سے 7 امیدوار اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔ باغی اور آزاد امیدواروں کی شمولیت نے متعدد حلقوں میں مقابلہ مزید دلچسپ بنا دیا ہے۔ کل 27 لاکھ رجسٹرڈ ووٹرز ہیں جو 30,000 سے زائد پولنگ مراکز میں تقسیم ہیں، اور صبح ہی لوگوں نے پولنگ اسٹیشنز پر لمبی قطاریں بنانا شروع کر دی ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
