مالیگاؤں بم دھماکہ معاملے میں فیصلے سے متاثرین کو مایوسی ہوئی۔
مالیگاؤں: مالیگاؤں بم دھماکہ کیس میں 17 سال کی طویل قانونی جنگ کے بعد بالآخر جمعرات کے روز نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کی خصوصی عدالت نے اپنا فیصلہ سنا دیا۔ عدالت نے عدم ثبوت کی بنا پر ساتوں ملزمان کو بری کر دیا۔ لیکن، اس فیصلے سے متاثرہ خاندانوں کو مایوسی ہوئی ہے۔ مقامی لوگوں اور متاثرین نے اسے انصاف نہیں بلکہ بہت بڑی ناانصافی قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانے کا اعلان کیا ہے۔
’’ہمیں جو امید تھی، اس طرح سے فیصلہ نہیں آیا‘‘
عدالت کے فیصلے پر مولانا قیوم قاسمی نے کہا، ’’ہمیں جو امید تھی، اس طرح سے فیصلہ نہیں آیا۔ ہیمنت کرکرے نے جو امید کی کرن دکھائی تھی وہ ہمارے حق میں نہیں آئی۔ مالیگاؤں کے متاثرین غریب اور مظلوم ہیں، لیکن ان کے حق میں فیصلہ نہیں آیا۔ اب ہم سپریم کورٹ جائیں گے۔‘‘
’’غلط پنچنامہ تیار کرنے کا نتیجہ ہے یہ فیصلہ‘‘
مولانا قاسمی نے مزید کہا، ’’آج کا فیصلہ مالیگاؤں کے لیے مایوسی لے کر آیا ہے۔ عدالتوں پر جو بھروسہ تھا، اس میں بھی لوگوں کے درمیان کمی محسوس ہو رہی ہے۔ یہ فیصلہ پنچنامہ تیار کرنے والوں کی غلطی کا نتیجہ ہے ۔ کئی معاملوں میں ملزمان کو صرف کاغذی کمیوں کی وجہ سے چھوڑ دیا گیا ہے۔ ہم مانتے ہیں کہ حکومت اور عدالتوں پر دباؤ تھا، جس کی وجہ سے ہمیں انصاف نہیں ملا۔‘‘
’’انہیں ثبوتوں کے ساتھ پکڑا گیا تھا‘‘
متاثر کے والد لیاقت شیخ نے بھی فیصلے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’’ہمارے ساتھ غلط ہوا ہے، مجرموں کو سزا ملنی چاہئے تھی، انہیں ثبوتوں کے ساتھ پکڑا گیا تھا، یہ سراسر ناانصافی ہے، اب ہم سپریم کورٹ کا رخ کریں گے۔
ایک اور متاثر کے والد نے کہا کہ 17 سال بعد عدالت کا یہ فیصلہ ہمارے لیے چونکانے والا ہے۔ ہمیں انصاف نہیں ملا۔ ہم سپریم کورٹ جائیں گے۔ ہر حال میں ہمیں انصاف چاہئے۔ خاندان کے ایک فرد نے کہا کہ آج عدالت کا جو فیصلہ آیا ہے، وہ انصاف نہیں ہے۔ ہمیں انصاف چاہتے ہیں اور اس کے لیے ہم سپریم کورٹ جائیں گے۔
کیا تھا سارا معاملہ
دراصل، 29 ستمبر 2008 کو مہاراشٹر کے ناسک ضلع کے مالیگاؤں میں ایک بم دھماکہ ہوا تھا، جس میں 6 لوگوں کی جان چلی گئی تھی۔ دھماکے کے نتیجے میں 100 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔ یہ دھماکہ اس وقت ہوا جب لوگ نماز ادا کرنے جا رہے تھے۔ بم دھماکے کے ایک دن بعد 30 ستمبر 2008 کو مالیگاؤں کے آزاد نگر تھانے میں کئی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
بم دھماکے سے کیسے جڑا پرگیہ کا نام
اس معاملے کی ابتدائی جانچ پولیس نے کی تھی، لیکن اس کے بعد پوری تفتیش اے ٹی ایس کے ہاتھ میں چلی گئی۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ایل ایم ایل فریڈم کی موٹر سائیکل میں بم لگایا گیا تھا۔ جس کی وجہ سے دھماکہ ہوا،لیکن موٹر سائیکل پر نمبر غلط لگا ہوا تھا۔ جب موٹر سائیکل کی جانچ شروع کی گئی تو دعویٰ کیا گیا کہ یہ سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر کے نام پر تھی۔ دھماکے کے تقریباً ایک ماہ بعد سادھوی پرگیہ سمیت 2 اور لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔ اس معاملے میں کل 11 لوگوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔
آپ کو بتا دیں کہ عدالت نے مالیگاؤں دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو معاوضہ کے طور پر دو دو لاکھ روپے دینے کا حکم دیا ہے۔ جبکہ زخمیوں کو پچاس پچاس ہزار روپے دینے کا حکم دیا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


