جالندھر: پنجاب پولیس نے 27 ستمبر کو ایک وائرل پیغام کے بعد لولی پروفیشنل یونیورسٹی (ایل پی یو) کیمپس میں ہونے والی پرتشدد جھڑپوں، توڑ پھوڑ اور آتش زنی کے معاملے میں 9 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ گرفتار افراد میں یونیورسٹی کے 7 طلبہ اور ایک نابالغ بھی شامل ہیں۔ سینئر پولیس افسران نے یہ اطلاع دی۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) پولیس نوین سنگلا نے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) گورو تورا اور اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (ایس آئی ٹی) کے انچارج وینیت اہلاوت کے ہمراہ تحقیقات اور اب تک کی گئی گرفتاریوں کی تفصیلات پیش کیں۔ یہ تنازع سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ان پوسٹس کے بعد شروع ہوا، جن میں گرلز ہاسٹل کیمپس کے اندر ایک سنگین واقعے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ پوسٹس میں الزام لگایا گیا کہ ایک بیرونی شخص نے ایک طالبہ کے ساتھ جنسی زیادتی کی ہے۔ اس کے بعد بڑی تعداد میں طلبہ احتجاج کے لیے جمع ہوگئے اور جواب دہی، سکیورٹی کے نظام میں اصلاحات اور یونیورسٹی انتظامیہ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
پولیس نے مبینہ لاٹھی چارج سے کیا انکار
ڈی آئی جی نوین سنگلا نے پولیس کی جانب سے مبینہ طور پر طاقت کے بے جا استعمال کے دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ پولیس نے ابتدا میں کوئی لاٹھی چارج نہیں کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس اہلکار پہلے میڈیا اور طلبہ کے ساتھ مل کر ایک اطمینان بخش پیغام دینے کی کوشش کر رہے تھے کہ انتظامیہ ان کے ساتھ ہے۔ سینئر افسر کے مطابق جب پولیس کی ٹیمیں کیمپس پہنچیں تو اس وقت تک نقصان بہت کم تھا، تاہم اچانک ہجوم کے ایک حصے نے تشدد شروع کردیا۔ مشتعل افراد نے پولیس اور میڈیا اہلکاروں پر پتھراؤ کیا، املاک میں توڑ پھوڑ کی اور کئی گاڑیوں کو آگ لگا دی۔ اس کے بعد پولیس ٹیموں کو ہجوم کو منتشر کرنے اور حالات پر قابو پانے کے لیے کم سے کم طاقت کا استعمال کرنا پڑا۔ تشدد کے دوران کیمپس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا گیا اور جھڑپیں نئی دہلی-امرتسر قومی شاہراہ تک پھیل گئیں۔ حالات کو قابو میں رکھنے اور غلط معلومات کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے یونیورسٹی انتظامیہ نے 10 دن کے لیے فزیکل کلاسز معطل کردیں اور مڈ ٹرم امتحانات ملتوی کردیے۔ مقامی انتظامیہ نے بھی عارضی طور پر کیمپس کے اطراف کے علاقے میں انٹرنیٹ سروس بند کردی تھی۔
جنسی زیادتی کے الزام کی ایس آئی ٹی کرے گی تحقیقات
ڈی آئی جی سنگلا نے بتایا کہ ایف آئی آر کی بنیاد پر پولیس نے مشتبہ افراد کا سراغ لگا کر پھگواڑہ، جموں اور ممبئی سے گرفتاریاں کیں۔ پولیس کی تصدیق میں سامنے آیا کہ گرفتار ملزمان میں سے 7 یونیورسٹی کے طلبہ ہیں، جبکہ 2 کا تعلق یونیورسٹی سے باہر کا ہے۔ تحقیقاتی ٹیم نے فسادات میں ملوث 20 افراد کی شناخت کرلی ہے اور کیس میں ان کے نام بھی باضابطہ طور پر درج کیے گئے ہیں۔ کیمپس میں بڑے پیمانے پر غم و غصے اور احتجاج کا سبب بننے والے طالبہ سے جنسی زیادتی کے الزام کے حوالے سے ڈی آئی جی سنگلا نے کہا کہ ایک خصوصی ایس آئی ٹی تشکیل دی گئی ہے اور حقائق سامنے لانے کے لیے غیر جانب دارانہ اور جامع تحقیقات جاری ہیں۔ حکام اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں وائرل ڈیجیٹل پوسٹس کے ماخذ کا بھی سراغ لگا رہی ہیں اور اس منظم انداز میں پیدا کیے گئے خلل کے پیچھے ممکنہ سرحد پار یا سیاسی روابط کے پہلو کی بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


