فلسطین میں مردہ پائے گئے انڈین فارن سروس کے افسر مکل آریا کی موت کی تحقیقات کے لیے ایس آئی ٹی تشکیل دینے کی درخواست کو دہلی ہائی کورٹ نے مسترد کر دیا ہے۔ مکل آریا کی مارچ 2022 میں فلسطین کے رامللہ میں واقع اپنی رہائش گاہ پر مشتبہ حالت میں موت ہو گئی تھی۔ جسٹس سنجے ناروُلا نے کہا کہ اس معاملے میں کئی سطحوں پر تحقیقات ہو چکی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے نتائج واضح نہیں ہیں، لیکن اس سے قتل کا شبہ ظاہر نہیں ہوتا ہے۔ عدالت نے مکل آریا کے بھائی کی جانب سے دائر درخواست کا بھی فیصلہ سناتے ہوئے اسے ختم کر دیا۔ سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ مکل آریا بالکل صحت مند تھے اور حساس عہدے پر تعینات تھے۔
سود سمیت معاوضہ اور خصوصی پنشن دینے کا مطالبہ
عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ واضح کیا کہ اب اس معاملے میں مزید تحقیقات کی ضرورت نہیں ہے۔ درخواست میں ایس آئی ٹی کی تحقیقات کے علاوہ مرکزی حکومت سے اہلِ خانہ کو باقی ماندہ سروس کی مدت کا تنخواہ، سود سمیت معاوضہ اور خصوصی پنشن دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
خاندان کا درد فطری ہے، لیکن قانونی طور پر عدالت کا کردار محدود
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ خاندان کا درد فطری ہے، لیکن قانونی طور پر عدالت کا کردار صرف یہ دیکھنے تک محدود ہے کہ آیا تحقیقات منصفانہ تھیں اور کہیں کوئی جانبداری یا کوتاہی تو نہیں ہوئی۔ عدالت نے کہا کہ مکل آریا کی موت سے متعلق رپورٹ میں جسم پر کسی قسم کے بیرونی یا اندرونی زخم، ہڈی ٹوٹنے یا زہر کے آثار نہیں پائے گئے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ کسی تیسرے شخص کی موجودگی کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ عدالت نے مزید کہا کہ اگر مستقبل میں کسی بیرونی مداخلت کے ٹھوس شواہد سامنے آتے ہیں، تو متعلقہ ایجنسیاں قانون کے مطابق کارروائی کر سکتی ہیں۔فلسطین سے قبل 2008 درمیان کے انڈین فارن سروس کے افسر مکل آریا کابل اور ماسکو میں بھارتی سفارت خانوں میں بھی خدمات انجام دے چکے تھے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


