سوشل میڈیا پر ’ہلچل مچانا‘ کیا ہوتا ہے، یہ کوئی للِت مودی سے سیکھے۔ پیر، 22 دسمبر کو جب پورا ملک اپنی روزمرہ کی مصروفیات میں مصروف عمل تھا، تب لندن سے ایک ایسا ویڈیو سامنے آیا جس نے بھارتی قانونی نظام اور انتظامیہ پر سوالیہ نشان لگا دیا۔
ویڈیو میں کیا دکھا؟
آئی پی ایل کے سابق کمشنر للِت مودی نے شراب کے کاروباری شخص وِجئے مالیا کی سالگرہ کے موقع پر ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں وہ نہ صرف جشن منا رہے ہیں بلکہ کھلے عام بھارت کا مذاق اُڑا رہے ہیں۔ للِت مودی کو ویڈیو میں بے باکی (اور شاید تھوڑے طنزیہ انداز میں) یہ کہتے سنا جا سکتا ہے: ’’ہم دو بھگوڑے ہیں، بھارت کے دو سب سے بڑے بھگوڑے۔‘‘ انہوں نے یہ ویڈیو اپنے انسٹاگرام پر پوسٹ کیا اور کیپشن میں لکھا کہ وہ دوبارہ انٹرنیٹ پر ہلچل مچانا چاہتے تھے۔ اور واقعی، یہ ویڈیو دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہو گیا۔ بھارتی عوام کے لیے یہ کسی زخم پر نمک چھڑکنے جیسا محسوس ہوا۔ کچھ لوگ اسے بھارتی حکام کی ناکامی قرار دے رہے ہیں، تو کچھ اسے نظام کا کھلے عام مذاق کہہ رہے ہیں۔
وِجئے مالیا کی ’قانونی آنکھ مچولی‘
ایک طرف وِجئے مالیا لندن میں پارٹی کر رہے ہیں، تو دوسری طرف بھارت کی عدالتیں ان پر گرفت سخت کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ حال ہی میں بومبے ہائی کورٹ نے مالیا سے براہِ راست سوال کیا کہ بھائی، آخر کب بھارت واپس آنے کا ارادہ ہے؟ عدالت نے واضح کر دیا کہ جب تک مالیا خود عدالت کے سامنے پیش نہیں ہوتے، تب تک’مفرور اقتصادی مجرم ایکٹ‘ کے تحت ان کے دلائل پر کوئی سماعت نہیں ہوگی۔ یاد رہے کہ مالیا پر بینکوں سے ہزاروں کروڑ روپے ہڑپ کرنے اور منی لانڈرنگ کے الزامات ہیں۔ وہ مارچ 2016 میں چپکے سے بھارت چھوڑ کر برطانیہ فرار ہو گئے تھے۔ 2019 میں انہیں ’مفرور اقتصادی مجرم‘ قرار دیا جا چکا ہے۔
آئی پی ایل کے ’فادر‘ سے ’مفرور‘ تک کا سفر
للِت مودی کی کہانی بھی کم دلچسپ نہیں ہے۔ 2010 میں جب آئی پی ایل کے براڈکاسٹ رائٹس میں دھاندلی اور 125 کروڑ کی رشوت کے الزامات سامنے آئے، تو مودی نے بھی ملک چھوڑنا بہتر سمجھا۔ ای ڈی (ED) کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے رائٹس کے تقسیم میں بھاری ہیر پھیر کی تھی۔ تب سے وہ بھی لندن میں بیٹھ کر بھارت کے خلاف طنز کا کوئی موقع نہیں چھوڑتے۔
عوام میں شدید غصہ
للِت مودی کا یہ ویڈیو انٹرنیٹ پر وائرل ہونے کے بعد عوام کا غصہ عروج پر ہے۔ لوگ پوچھ رہے ہیں کہ آخر کب تک یہ ’اقتصادی مجرم‘ غیر ملکی زمین پر بیٹھ کر بھارت کے نظام کا مذاق اڑاتے رہیں گے؟ کیا ادارے انہیں واپس لانے میں کبھی کامیاب ہوں گے یا یہ صرف عدالتوں کی تاریخوں کا کھیل بنتا رہے گا؟
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


