Bharat Express DD Free Dish

Lack of sleep can impair metabolism: نیند کی کمی بھی سگریٹ نوشی جتنی خطرناک، طبی ماہرین کا انتباہ، مسلسل کم نیند دل، دماغ اور مدافعتی نظام کے لیے سنگین خطرہ

ماہرین کے مطابق بالکل غلط ہے، کیونکہ دراصل جسم نیند کا قرض جمع کرتا رہتا ہے جو اندر ہی اندر نقصان پہنچاتا ہے۔نیند کی کمی کی ابتدائی علامات اکثر معمولی لگتی ہیں، جیسے ہر وقت تھکن، چڑچڑاپن، موڈ میں اتار چڑھاؤ، توجہ کی کمی، بار بار سر درد، کیفین پر زیادہ انحصار، کم حوصلہ اور غیر صحت بخش کھانوں کی خواہش۔

کبھی سگریٹ نوشی کو سب سے بڑا سائلنٹ کلر سمجھا جاتا تھا، مگر اب طبی ماہرین ایک اور اتنی ہی خطرناک عادت کی طرف توجہ دلا رہے ہیں اور وہ ہے مسلسل نیند کی کمی۔ ڈاکٹروں کے مطابق کرونک سلیپ ڈیپریویشن یعنی طویل عرصے تک پوری نیند نہ لینا آج کے دور میں سگریٹ نوشی جتنا ہی نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔ اس کے اثرات فوری طور پر ظاہر نہیں ہوتے، لیکن آہستہ آہستہ یہ جسم کے تقریباً ہر نظام کو متاثر کرتا ہے۔تیز رفتار زندگی، دیر رات تک جاگنا، جلدی اٹھنا، گھنٹوں اسکرین دیکھنا اور یہ سوچ کہ نیند کو مینیج کیا جا سکتا ہے، آج عام ہو چکا ہے۔ کئی لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ پانچ گھنٹے کی نیند ان کے لیے کافی ہے، مگر ماہرین اسے خطرناک غلط فہمی قرار دیتے ہیں۔ نیند صرف آرام نہیں بلکہ جسم کی مرمت اور بحالی کا ایک فعال عمل ہے۔ جب نیند کو مسلسل کم کیا جاتا ہے تو اندرونی نقصان جمع ہونے لگتا ہے، جس سے دل، قوتِ مدافعت اور دماغی صحت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔

ماہرین کے مطابق نیند کی کمی آج وہی کردار ادا کر رہی ہے جو چند دہائیاں پہلے سگریٹ نوشی ادا کرتی تھی۔ خراب نیند سے جسم میں سوزش بڑھتی ہے اور قدرتی ریپئر سسٹم کمزور پڑ جاتا ہے۔ ابتدا میں واضح علامات نظر نہیں آتیں، لیکن وقت کے ساتھ یہ دل کی بیماریوں، ہائی بلڈ پریشر اور فالج جیسے خطرات کو کئی گنا بڑھا دیتی ہے۔ اس کے ساتھ میٹابولزم بھی متاثر ہوتا ہے، جس سے بھوک میں اضافہ، میٹھے اور جنک فوڈ کی طلب، انسولین سینسٹیویٹی میں کمی، موٹاپا اور ٹائپ ٹو ذیابیطس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔نیند قوتِ مدافعت کے لیے بھی نہایت ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران جسم خود کو مضبوط بناتا ہے۔ نیند پوری نہ ہونے پر انسان جلد بیمار پڑتا ہے اور صحت یابی میں زیادہ وقت لگتا ہے۔ دماغی صحت کے حوالے سے بھی نیند اہم کردار ادا کرتی ہے، کیونکہ یہ زہریلے مادوں کو صاف کرنے اور جذبات کو متوازن رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ طویل عرصے تک نیند کی کمی سے بے چینی، ڈپریشن، یادداشت کی کمزوری، توجہ میں کمی اور برین فوگ جیسی شکایات بڑھ سکتی ہیں۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ نیند کوئی آپشن نہیں بلکہ بنیادی ضرورت ہے۔ زیادہ تر بالغ افراد کو روزانہ سات سے نو گھنٹے کی نیند درکار ہوتی ہے، نوجوانوں کے لیے یہ مدت آٹھ سے دس گھنٹے ہے، جب کہ بزرگوں کے لیے بھی کم از کم سات گھنٹے کی نیند ضروری ہے۔ یہ مان لینا کہ جسم کم نیند کا عادی ہو گیا ہے، ماہرین کے مطابق بالکل غلط ہے، کیونکہ دراصل جسم نیند کا قرض جمع کرتا رہتا ہے جو اندر ہی اندر نقصان پہنچاتا ہے۔نیند کی کمی کی ابتدائی علامات اکثر معمولی لگتی ہیں، جیسے ہر وقت تھکن، چڑچڑاپن، موڈ میں اتار چڑھاؤ، توجہ کی کمی، بار بار سر درد، کیفین پر زیادہ انحصار، کم حوصلہ اور غیر صحت بخش کھانوں کی خواہش۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دن گزارنے کے لیے الارم، کافی یا ویک اینڈ پر اضافی نیند کی ضرورت پڑ رہی ہے تو یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ جسم پہلے ہی دباؤ میں ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق نیند عیش نہیں بلکہ صحت کی بنیاد ہے، جسے نظرانداز کرنا خاموشی سے بڑی بیماریوں کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read