نئی دہلی: معروف اسٹینڈ اپ کامیڈین کنال کامرا ایک بار پھر اپنے ایک بیان کی وجہ سے تنازع میں آ گئے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ جمعرات کو دہلی کے جنتر منتر پر سی جے پی (Citizens for Justice and Peace) کے احتجاجی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کنال کامرا نے مرکزی حکومت پر طنزیہ انداز میں تبصرہ کیا۔ اپنی تقریر کے دوران انہوں نے کہا ’’موجودہ حکومت سیتا کے شوہر کا نام لے کر نیتا کے شوہر کے لیے کام کر رہی ہے اور صرف انہی کو فائدہ پہنچا رہی ہے۔‘‘ کنال کامرا کے اس بیان پر احتجاجی مقام پر موجود متعدد افراد نے تالیاں بجا کر ردعمل ظاہر کیا، تاہم اس بیان کے سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر اس پر شدید بحث چھڑ گئی۔ بعض صارفین نے اسے سیاسی طنز اور اظہار رائے کی آزادی کا حصہ قرار دیا، جبکہ دیگر افراد نے دعویٰ کیا کہ اس سے ان کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں۔
سوشل میڈیا پر کارروائی کا مطالبہ
بیان کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کنال کامرا کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ عوامی شخصیات کو اپنے بیانات میں مذہبی حوالوں کے استعمال میں احتیاط برتنی چاہیے، جبکہ حامیوں کا موقف ہے کہ کامیڈین نے حکومت پر سیاسی طنز کیا تھا اور اسے اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ فی الحال اس معاملے میں پولیس یا متعلقہ حکام کی جانب سے کسی مقدمے یا قانونی کارروائی کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔ اگر آئندہ کوئی قانونی پیش رفت ہوتی ہے تو اس پر مزید معلومات سامنے آنے کا امکان ہے۔
کنال کامرا کا تنازعات سے ہے پرانا ناطہ
کنال کامرا گزشتہ چند برسوں سے اپنے سیاسی طنز، اسٹینڈ اپ کامیڈی اور سوشل میڈیا پوسٹس کی وجہ سے متعدد بار تنازعات اور قانونی کارروائیوں کا سامنا کر چکے ہیں۔ ان کے خلاف مختلف مواقع پر ایف آئی آر درج ہوئیں اور کئی معاملات میں وہ عدالتوں سے رجوع بھی کر چکے ہیں۔ سب سے زیادہ چرچا 2025 میں اس وقت ہوا جب ممبئی میں اپنے ایک کامیڈی شو کے دوران انہوں نے ایکناتھ شندے پر طنزیہ تبصرہ کیا۔ اس معاملے پر شندے حامیوں نے شدید احتجاج کیا، شو کے مقام پر توڑ پھوڑ کی گئی اور کنال کامرا کے خلاف ممبئی میں ایف آئی آر درج ہوئی۔ بعد ازاں انہوں نے گرفتاری سے تحفظ کے لیے عدالت سے رجوع کیا اور اس معاملے نے قومی سطح پر آزادیٔ اظہار اور سیاسی طنز کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی۔
توہین عدالت کے معاملے پر ہوئی تھی کارروائی
اس سے قبل 2020 میں کنال کامرا اس وقت بھی سرخیوں میں آئے تھے جب انہوں نے ایک فضائی سفر کے دوران معروف ٹی وی اینکر ارنب گوسوامی سے تلخ سوالات کیے تھے۔ اس واقعے کے بعد کئی ایئرلائنز نے ان پر عارضی سفری پابندی عائد کر دی تھی، اگرچہ یہ معاملہ ایف آئی آر سے زیادہ ضابطہ اخلاق اور ایئرلائنز کی کارروائی کے حوالے سے زیر بحث رہا۔ اسی برس انہوں نے سپریم کورٹ سے متعلق سوشل میڈیا پر بعض تبصرے کیے تھے، جن پر ان کے خلاف توہین عدالت (Contempt of Court) کی کارروائی شروع ہوئی۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے اس معاملے کی سماعت کی، تاہم کنال کامرا نے اپنے اظہارِ رائے کے حق کا دفاع کیا۔ مختلف مواقع پر ان کے سوشل میڈیا بیانات اور سیاسی طنز کو لے کر بھی شکایات درج کرائی جاتی رہی ہیں، اگرچہ ان میں سے کئی معاملات ابتدائی مرحلے سے آگے نہیں بڑھ سکے یا عدالتی کارروائی کے زیرسماعت رہے۔
موجودہ تنازع بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ جنتر منتر پر دیا گیا حالیہ بیان بھی کنال کامرا کے ان متنازع بیانات کے سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔ ایک طرف ان کے حامی اسے سیاسی طنز اور اظہارِ رائے کی آزادی قرار دے رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ عوامی شخصیات کو مذہبی حوالوں کے استعمال میں زیادہ احتیاط برتنی چاہیے۔ فی الحال اس تازہ معاملے میں کسی ایف آئی آر یا قانونی کارروائی کی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی ہے، تاہم سوشل میڈیا پر ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



