Bharat Express DD Free Dish

CM Siddaramaiah backs Banu Mushtaq to inaugurate Dussehra: ’’دسہرہ کوئی مذہبی تہوار نہیں‘‘، کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارامیا نے بانو مشتاق کے ذریعے دسہرے کے افتتاح کا کیا دفاع

بی جے پی کرناٹک کے صدر بی وائی وجیندر نے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ جب بانو مشتاق کو مدعو کیا گیا تو ان کی کتاب ہارٹ لیمپ کا ترجمہ کرنے والی دیپا بھاشتی کو کیوں نظرانداز کیا گیا؟

(فائل فوٹو)

کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارامیا نے میسور دسہرہ 2025 کی افتتاحی تقریب کے لیے معروف کنڑ ادیبہ اور بکر انعام یافتہ بانو مشتاق کو مدعو کرنے کے حکومتی فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ دسہرہ کسی ایک مذہب سے منسلک تہوار نہیں، بلکہ یہ سب کے لیے ہے۔ اتوار کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سدارامیا نے کہا کہ ’’دسہرہ کوئی مذہبی تہوار نہیں بلکہ ناڈا تہوار ہے جسے سب مناتے ہیں۔ اس لیے بانو مشتاق جیسی ادیبہ اور سماجی کارکن کا اس کا افتتاح کرنا مناسب ہے۔ مجھے اعلیٰ سطحی کمیٹی نے افتتاحی شخصیت کے انتخاب کا اختیار دیا اور ہم نے طے کیا کہ بانو مشتاق کو دعوت دی جائے۔ اس سے پہلے بھی شاعر نثار احمد نے دسہرہ کا افتتاح کیا ہے۔ یہ ہندو، مسلمان، عیسائی، بودھ، جین—سب کے لیے ہے۔‘‘

سدارامیا نے ان افراد کو ’’مذہبی انتہاپسند‘‘ قرار دیا جو بانو مشتاق کے انتخاب کی مخالفت کر رہے ہیں۔ سدارامیا نے کہا کہ ’’جب مہاراجہ حکمرانی میں نہیں تھے، تب بھی حیدر علی اور ٹیپو سلطان نے دسہرہ منایا۔ دیوان مرزا اسماعیل نے بھی اس تہوار کو منایا۔ یہ تاریخ سے ناواقف افراد کی تنقید ہے۔‘‘ واضح رہے کہ بی جے پی کرناٹک کے صدر بی وائی وجیندر نے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ جب بانو مشتاق کو مدعو کیا گیا تو ان کی کتاب ہارٹ لیمپ کا ترجمہ کرنے والی دیپا بھاشتی کو کیوں نظرانداز کیا گیا، جو بین الاقوامی بکر انعام جیتنے والی پہلی ہندوستانی مترجم ہیں؟

وجیندر نے کانگریس پر ’’ہندو روایت کی توہین‘‘ کا الزام عائد کیا اور نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار کے چامنڈی ہلز سے متعلق بیان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ڈی کے شیوکمار نے اس تنازع پر ردِعمل دیتے ہوئے سوشل میڈیا پر کہا کہ ’’چامنڈیشوری ہماری علاقائی دیوی ہیں، جن کی پوجا ہر مذہب، ذات اور برادری کے لوگ کرتے ہیں۔ ماں سب کی ہے، کسی ایک کی جاگیر نہیں۔‘‘ انھوں نے بی جے پی پر مذہب کے نام پر سیاست کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ’’ہماری دیوی درگا سب کا دکھ دور کرتی ہیں۔ مذہب کو سیاست کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے، خود ماں بھی اسے پسند نہیں کریں گی۔‘‘

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read