نئی دہلی : بھارت کے بڑے مالی گھوٹالوں میں شامل 1825 کروڑ روپے کے جی ایس ٹی ریفنڈ فراڈ کے مبینہ ماسٹر مائنڈ کپل چُگ کو آخرکار گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف جی ایس ٹی انٹیلیجنس احمد آباد کی ٹیم نے 19 اپریل کو کارروائی کرتے ہوئے انہیں اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈہ سے گرفتار کیا۔ کپل چُگ طویل عرصے سے دبئی میں چھپا ہوا تھا اور جیسے ہی وہ بھارت پہنچا، تفتیشی ایجنسیوں نے اسے دبوچ لیا۔
22 سمن نظرانداز کر کے دبئی فرار
تفتیش کے مطابق کپل چُگ نے قانون سے بچنے کے لیے متعدد چالیں چلیں۔ ڈی جی جی آئی احمد آباد نے اسے پوچھ گچھ کے لیے 22 مرتبہ سمن جاری کیے، لیکن وہ ایک بار بھی پیش نہیں ہوا اور ملک چھوڑ کر دبئی فرار ہوگیا۔ ذرائع کے مطابق وہ بیرون ملک سے ہی اپنے پورے نیٹ ورک کو چلا رہا تھا۔
فیک کمپنیوں کا جال، 1825 کروڑ کا فراڈ
تحقیقات میں سامنے آیا کہ کپل چُگ اور اس کے ساتھی وپن شرما نے جعلی کمپنیوں کا ایک پیچیدہ نیٹ ورک تیار کیا۔ دیگر افراد کے KYC دستاویزات استعمال کر کے درجنوں فرضی کمپنیاں بنائی گئیں، جن کا زمینی سطح پر کوئی وجود نہیں تھا۔ نہ کوئی مشینری، نہ ملازمین اور نہ ہی کوئی حقیقی کاروبار۔
ان کمپنیوں کے نام پر فرضی بل جاری کیے جاتے اور بغیر کسی حقیقی خرید و فروخت کے بھاری ان پٹ ٹیکس کریڈٹ (ITC) حاصل کیا جاتا۔ ان بلوں کو مختلف کمپنیوں کے درمیان گھمایا جاتا تاکہ اصل ذریعہ کا پتہ نہ چل سکے۔
کباڑ کو “قیمتی تمباکو” بنا کر برآمد دکھایا
گینگ نے فراڈ کا ایک نیا طریقہ اختیار کیا۔ مقامی مارکیٹ سے سستا اور غیر معیاری تمباکو یا کباڑ خریدا جاتا اور کاغذوں میں اسے قیمتی مصنوعات جیسے “کِمام” اور “زردہ” ظاہر کیا جاتا۔ بعد میں اس مال کو کانڈلا اسپیشل اکنامک زون کے ذریعے مہنگے داموں برآمد دکھا کر لیٹر آف انڈرٹیکنگ (LUT) کے تحت کروڑوں روپے کا جی ایس ٹی ریفنڈ حاصل کیا جاتا تھا۔
یس بینک کو بھی 11 کروڑ کا نقصان
کپل چُگ کا فراڈ صرف جی ایس ٹی تک محدود نہیں رہا۔ اس نے جعلی کاروباری اعداد و شمار کے ذریعے یس بینک سے بھی 11 کروڑ روپے کی کریڈٹ سہولت حاصل کی۔ اس معاملے میں سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن پہلے ہی چارج شیٹ دائر کر چکی ہے۔ادھر وپن شرما کی کمپنی ایلیٹکون کے خلاف سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا نے 30 مارچ 2026 کو سخت احکامات جاری کیے ہیں۔ ان پر کمپنی کی قدر مصنوعی طور پر بڑھانے کا الزام ہے۔
ایجنسیوں کی بڑی کامیابی
مالی تجزیے میں یہ بھی سامنے آیا کہ کاغذی لین دین کروڑوں روپے کا تھا، لیکن بینک کھاتوں میں حقیقی رقم کا بہاؤ نہ ہونے کے برابر تھا۔ کئی کمپنیوں کا ایک ہی آئی پی ایڈریس اور مشترکہ ملازمین ہونا اس بات کا ثبوت بنا کہ پورا نیٹ ورک مرکزی طور پر چلایا جا رہا تھا۔وزارت خزانہ بھارت نے اس گرفتاری کو اقتصادی جرائم کے خلاف بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔ فی الحال کپل چُگ سے پوچھ گچھ جاری ہے اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس کیس میں مزید بڑے نام سامنے آ سکتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



