Bharat Express DD Free Dish

GST 2.0

مالی تجزیے میں یہ بھی سامنے آیا کہ کاغذی لین دین کروڑوں روپے کا تھا، لیکن بینک کھاتوں میں حقیقی رقم کا بہاؤ نہ ہونے کے برابر تھا۔ کئی کمپنیوں کا ایک ہی آئی پی ایڈریس اور مشترکہ ملازمین ہونا اس بات کا ثبوت بنا کہ پورا نیٹ ورک مرکزی طور پر چلایا جا رہا تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈیفلٹر میں ممکنہ اضافہ حقیقی ترقی پر کچھ دباؤ ڈال سکتا ہے، لیکن مرکزی حکومت کے سرمایہ جاتی اخراجات اور نجی سرمایہ کاری میں بہتری کے اشارے معیشت کو رفتار فراہم کریں گے۔

GST 2.0 کے تحت یہ معقولیت ہندوستانی دستکاریوں کو صارفین کے لیے قابل استطاعت بنانے کے لیے بہت ضروری ہے جس سے عالمی منڈیوں میں ان کی رسائی اور مسابقت کو بڑھانے میں مدد ملے گی۔

جی ایس ٹی 2.0 اصلاحات اور تہواروں کی طلب کے باعث گزشتہ ماہ اکتوبر میں دو پہیہ گاڑیوں کی فروخت میں زبردست اضافہ درج کیا گیا ہے۔ ٹی وی ایس موٹر نے اپنی فروخت میں 11 فیصد اضافے کی اطلاع دی ہے۔

ایم ایس ایم ای سیکٹر اور ریٹیل تجارت کے تعلق سے انہوں نے کہا کہ ان اصلاحات کے مثبت اثرات ہم واضح طور پر دیکھ رہے ہیں۔ اس کی وجہ سے مینوفیکچرنگ، لاجسٹکس، پیکیجنگ اور ڈسٹری بیوشن جیسے شعبوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی دیوالی مبارکباد پر بھی عمران مسعود نے ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ روز ہمیں دھمکاتے ہیں، ٹیکس لگانے کی بات کرتے ہیں، پھر مبارکباد دیتے ہیں، اور مودی جی اُسے قبول بھی کر لیتے ہیں۔ ایک بار اندرا گاندھی جیسا دم دکھائیں اور کہیں کہ ملک کے مفاد میں ہم ٹرمپ کا فون نہیں لیں گے۔

وزیر اعظم مودی نے غیر ملکی کمپنیوں کو اتر پردیش میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا، ’’آج بھارت کے پاس اصلاحات کی مضبوط طاقت ہے، ہمارے پاس جمہوری اور سیاسی استحکام ہے، پالیسی کی پیش بینی بھی ہے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ بھارت کے پاس بہت بڑی نوجوان اور ہنر مند افرادی قوت ہے۔

وزیراعظم نے جی ایس ٹی کی شرحوں میں جو کمی کی ہے اس سے تاجروں کی فروخت بڑھے گی اور تہوار کے موقع پر عوام کو کم قیمت پر اشیاء مل سکیں گی۔ نئے جی ایس ٹی کے نفاذ کے ساتھ ہی عوام کے لیے ’بچت اتسو‘ شروع ہوا ہے۔

وزیراعظم مودی نے بڑے ہندی اور انگریزی روزناموں کے صفحہ اول کی تصویریں پوسٹ کرتے ہوئے کہا، "بازاروں سے لے کرگھروں تک، جی ایس ٹی بچت اتسو ایک تہوار کا ماحول بناتا ہے، جس سے ہرگھرمیں کم لاگت اورخوشی کی مسکراہٹ ہوتی ہے۔"

یہ نیکسٹ جنریشن جی ایس ٹی اصلاحات پی ایم مودی کے آتم نربھر بھارت اور میک ان انڈیا کے وژن کو یکجا کرتے ہیں اور ترقی یافتہ بھارت 2047 کی طرف ایک مزید مربوط منصوبہ پیش کرتے ہیں۔