Bharat Express DD Free Dish

Justice Verma refuses to resign: جسٹس ورما نے استعفیٰ دینے سےکر دیاانکار، چیف جسٹس نے صدرجمہوریہ اور وزیر اعظم کو بھیجی رپورٹ

پینل نے اپنی رپورٹ 4 مئی کو چیف جسٹس کو پیش کی۔ رپورٹ میں جسٹس ورما کی رہائش گاہ پر نقد رقم کی موجودگی کی تصدیق کی گئی ہے، جبکہ جسٹس ورما نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اسے اپنے خلاف “سازش” قرار دیاہے۔

چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) سنجیو کھنہ نے جسٹس یشونت ورما کیس میں تین رکنی اندرون خانہ(اِن ہاوس) انکوائری کمیٹی کی رپورٹ اورجسٹس ورما کا جواب صدر دروپدی مرمو اور وزیر اعظم نریندر مودی کو بھیج دیا ہے۔ یہ اقدام 14 مارچ 2025 کو آتشزدگی کے واقعے کے بعد جسٹس یشونت ورما کی سرکاری رہائش گاہ پر مبینہ طور پر نقد رقم برآمد ہونے کے الزامات کی تحقیقات کے بعد سامنے آیا ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا سنجیو کھنہ نے جب جسٹس ورما کے گھر پر نقدی ملنے کے الزامات کو معتبر پایا تب جسٹس یشونت ورما سے استعفیٰ طلب کیا تھا ۔ لیکن جسٹس ورما نے استعفیٰ دینے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد سی جے آئی نے تحقیقاتی پینل کی رپورٹ اور جسٹس ورما کا جواب صدر دروپدی مرمو اور پی ایم مودی کو بھیج دیا ہے۔

جمعرات کو ایک سرکاری بیان میں کہا گیا کہ چیف جسٹس آف انڈیانے  اِن ہاوس طریقہ کار کے لحاظ سے صدر اور وزیر اعظم دونوں کو لکھا ہے، جس میں جسٹس یشونت ورما کی طرف سے 6.05.2025 کو موصول ہونے والے خط/جواب کے ساتھ 03.05.2025 کی 3 رکنی کمیٹی کی رپورٹ کی ایک کاپی منسلک کی گئی ہے۔انکوائری کمیٹی میں پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس شیل ناگو، ہماچل پردیش ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جی ایس سندھاوالیا اور کرناٹک ہائی کورٹ کے جج انو شیورامن شامل تھے۔

 پینل نے اپنی رپورٹ 4 مئی کو چیف جسٹس کو پیش کی۔ رپورٹ میں جسٹس ورما کی رہائش گاہ پر نقد رقم کی موجودگی کی تصدیق کی گئی ہے، جبکہ جسٹس ورما نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اسے اپنے خلاف “سازش” قرار دیاہے۔سی جے آئی نے جسٹس ورما کو جواب دینے کے لیے 9 مئی تک کا وقت دیا تھا اور اب یہ معاملہ مزید کارروائی کے لیے صدر اور وزیر اعظم کو بھیج دیا گیا ہے۔ اس کے تحت جسٹس ورما  کے استعفیٰ نہ دینے کی صورت میں چیف جسٹس نے حکومت سے جسٹس ورما کے خلاف پارلیمنٹ میں مواخذے کی کارروائی شروع کرنے کی سفارش کردی ہے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read