نئی دہلی: سپریم کورٹ میں جمعہ کے روز اس وقت غیر معمولی صورتحال پیدا ہوگئی جب ایک درخواست گزار نے جو اپنا مقدمہ خود لڑ رہا تھا، سماعت کے دوران عدالت کا نظم درہم برہم کر دیا۔ چیف جسٹس کے خلاف نازیبا زبان کا استعمال کیا اور ججوں کے سامنے کاغذات اچھال دیے۔ تاہم عدالت نے اس کے خلاف توہین عدالت یا کسی دوسری کارروائی سے گریز کرتے ہوئے صرف اس کی درخواست مسترد کر دی۔
ہنگامے کی کیا ہیں اصل وجوہات؟
یہ واقعہ جسٹس کے وی وشواناتھن اور جسٹس آلوک آرادھے پر مشتمل بنچ کے سامنے پیش آیا، جہاں الٰہ آباد ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کو چیلنج کرنے والی خصوصی اپیل کی اجازت (SLP) کی سماعت جاری تھی۔ درخواست گزار پربل پرتاپ نے خود کو ’’خودمختار‘‘ (Sovereign) قرار دیتے ہوئے جج صاحبان کو ’’عدالتی ملازم‘‘ کہہ کر مخاطب کرتے ہوئے کہا: ’’Mr judicial servant. I order you to order the registration of an FIR against the ACP … Lucknow‘‘ ’’مسٹر جوڈیشل سرونٹ، میں آپ کو حکم دیتا ہوں کہ اے ایس پی، لکھنؤ کے خلاف سائبر کرائم سنڈیکیٹ چلانے کے الزام میں ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیں۔‘‘ اس پر جسٹس وشواناتھن نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا: ’’آپ ہمیں حکم دے رہے ہیں؟‘‘ درخواست گزار نے جواب دیا کہ جو کچھ کہنا تھا، وہ ریکارڈ پر موجود ہے۔
چیف جسٹس کے خلاف بدزبانی، سکیورٹی نے باہر نکالا
چند ہی لمحوں بعد درخواست گزار نے چیف جسٹس آف انڈیا کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کیے اور عدالت میں موجود کاغذات ہوا میں اچھال دیے، جس کے باعث عدالتی کارروائی میں خلل پڑا۔ اس کے بعد سکیورٹی اہلکار فوری طور پر متحرک ہوئے اور اسے عدالت سے باہر لے گئے۔ بعد ازاں اسے کچھ دیر کے لیے سپریم کورٹ کے احاطے میں واقع ڈی ایس پی کے دفتر میں رکھا گیا۔
عدالت نے کارروائی کرنے سے گریز کیا
ہنگامہ آرائی کے باوجود بنچ نے درخواست گزار کے خلاف توہینِ عدالت یا کسی اور تعزیری کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ فیصلہ سناتے ہوئے جسٹس کے وی وشواناتھن نے کہا: ’’ہم اس شخص کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرنا چاہتے۔ مقدمے کے میرٹ کا جائزہ لینے کے بعد ہمیں الٰہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے میں مداخلت کی کوئی معقول وجہ نظر نہیں آئی، لہٰذا خصوصی اجازت اپیل مسترد کی جاتی ہے۔‘‘ سماعت کے بعد سینئر وکیل پی ایس پٹوَالیا نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بعض اوقات جج کا منصب کتنا مشکل ہوتا ہے، یہ ایسے مواقع پر واضح ہو جاتا ہے۔ اس پر جسٹس وشواناتھن نے کہا: ’’وہ شدید ذہنی دباؤ اور مایوسی کا شکار ہے۔ ہمیں اس سے صرف ہمدردی ہے۔‘‘
سپریم کورٹ نے درخواست خارج کردی؟
درخواست گزار نے الہٰ آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا، جس میں اس کی عرضی مسترد کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ وہ متعلقہ عدالتی حکم کے خلاف متبادل قانونی چارہ جوئی اختیار کرے۔ اصل معاملہ لکھنؤ کی اسپیشل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ (کسٹمز) کی عدالت سے متعلق تھا، جہاں ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست کو نجی شکایت (Private Complaint) کے طور پر درج کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ سپریم کورٹ نے بھی ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے درخواست خارج کر دی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
