Bharat Express DD Free Dish

Sudivya Kumar Sonu Passes Away: جھارکھنڈ حکومت کے وزیر سدیویہ کمار سونو کا انتقال، جے ایم ایم نے گہرے رنج و غم کا کیا اظہار

گریڈیہ کے رکن اسمبلی اور جے ایم ایم کے سینئر لیڈر سدیویہ کمار سونو اچانک بیمار پڑنے کے بعد انتقال کر گئے، اعلیٰ و تکنیکی تعلیم، شہری ترقی سمیت کئی اہم محکموں کی ذمہ داری سنبھال رہے تھے

جھارکھنڈ مکتی مورچہ (جے ایم ایم) کے سینئر لیڈر اور جھارکھنڈ حکومت میں اعلیٰ و تکنیکی تعلیم اور شہری ترقی کے وزیر سدیویہ کمار سونو کا اچانک بیماری کے بعد انتقال ہو گیا۔ وہ گریڈیہ اسمبلی حلقے سے رکن اسمبلی تھے۔ ان کے پاس سیاحت، فن و ثقافت، کھیل اور امورِ نوجوانان جیسے اہم محکموں کی ذمہ داریاں بھی تھیں۔ ان کے انتقال سے جے ایم ایم اور جھارکھنڈ کی سیاسی دنیا میں غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔

سی ایم سورین نے کی جذباتی پوسٹ

وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے ایکس پر جذباتی پوسٹ لکھتے ہوئے کہا، “رات دیر گئے اپنے بڑے بھائی، ہمارے پیارے سودِویہ کمار سونو جی کے انتقال کی افسوسناک خبر ملی۔ اس خبر کو قبول کرنا میرے لیے انتہائی مشکل ہے۔ سونو بھیا کا چلے جانا میری زندگی میں ایسی کمی چھوڑ گیا ہے، جسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ سونو بھیا میرے لیے صرف ایک سینئر ساتھی یا سیاسی رفیق نہیں تھے۔ وہ بڑے بھائی کی طرح تھے—محبت دینے والے، رہنمائی کرنے والے اور ہر مشکل وقت میں مضبوطی سے میرے ساتھ کھڑے رہنے والے۔ ان کے ساتھ گزارے ہوئے لمحات اور ان سے ملی سیکھ ہمیشہ میرے ساتھ رہیں گے۔”

انہوں نے مزید لکھا، “جھارکھنڈ تحریک کے دور سے ہی وہ مرحوم بابا دیشوم گرو جی کے ساتھ پوری وفاداری اور مضبوطی سے کھڑے رہے۔ جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے ایک وقف سپاہی کی حیثیت سے انہوں نے اپنی پوری زندگی جھارکھنڈ کی شناخت، حقوق اور خودداری کی جدوجہد کے لیے وقف کردی۔ جھارکھنڈیت کے تئیں ان کی وابستگی اور ان کا جدوجہد کرنے والا جذبہ ہمیشہ یاد کیا جائے گا۔ آج انہیں یاد کرتے ہوئے دل بار بار یہی سوچتا ہے کہ زندگی کتنی عارضی ہے۔ کل تک جو آواز ہمارے درمیان تھی، آج وہ صرف یادوں میں رہ گئی ہے۔ سونو بھیا، آپ کا چلے جانا میرے لیے ذاتی نقصان ہے۔ آپ کی کمی ہمیشہ محسوس ہوگی۔ آپ کی محبت، آپ کی جدوجہد اور جھارکھنڈ کے لیے آپ کی وابستگی کو میں زندگی بھر اپنے ساتھ لے کر چلوں گا۔”

2019 میں پہلی بار اسمبلی پہنچے تھے

سدیویہ کمار سونو 2019 میں پہلی مرتبہ گریڈیہ سے جھارکھنڈ اسمبلی کے لیے منتخب ہوئے تھے۔ ان کے کنبہ میں دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔ وہ وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے اور جے ایم ایم کے اندر مشکل حالات سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کرتے رہے۔ 2024 میں مبینہ زمین دھوکہ دہی اور منی لانڈرنگ کے معاملے میں ہیمنت سورین کی گرفتاری کے دوران پیدا ہونے والی سیاسی صورتحال میں بھی سدیویہ کمار نے پارٹی کے لیے اہم ذمہ داریاں نبھائی تھیں۔

اسی ہفتے کیا تھا کرناٹک کا دورہ

سدیویہ کمار سونو اسی ہفتے کرناٹک کے دورے سے واپس لوٹے تھے۔ وہ جھارکھنڈ حکومت کے ایک وفد کی قیادت کر رہے تھے، جس کا مقصد ریاست میں سیاحتی بنیادی ڈھانچے کے انتظام کو بہتر بنانے کے طریقوں کا جائزہ لینا تھا۔ دورے کے دوران انہوں نے کرناٹک کے وزیر سیاحت کے جے جارج سے ملاقات کی اور سیاحت و جنگلات کے انتظام کے شعبوں میں دونوں ریاستوں کے درمیان تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔ وفد نے جھارکھنڈ کے اہم سیاحتی مقامات پر سیاحتی املاک اور ریزورٹس کے بہتر آپریشن اور انتظام کے لیے ’جنگل لاجز اینڈ ریزورٹس‘ کو نالج پارٹنر کے طور پر شامل کرنے کے امکانات پر بھی تفصیلی گفتگو کی تھی۔

جے ایم ایم نے کہا، یہ ناقابل تلافی نقصان ہے

جے ایم ایم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر سدیویہ کمار سونو کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ پارٹی نے کہا کہ ان کے اچانک انتقال سے پورا جے ایم ایم خاندان صدمے اور گہرے دکھ میں مبتلا ہے۔ پارٹی نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ سدیویہ کمار کا انتقال پارٹی، حکومت اور جھارکھنڈ کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ ان کی جدوجہد، عوامی خدمت اور خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ جے ایم ایم نے آنجہانی وزیر کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے دعا کی کہ ایشور ان کی روح کو سکون عطا کرے اور سوگوار خاندان و تمام ساتھیوں کو اس مشکل گھڑی میں صبر و حوصلہ دے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read