نئی دہلی : دہلی میں 10 اکتوبر کو احتجاج کے دوران سماجی تنظیموں کے کارکنان، وکلا اور صحافیوں کو حراست میں لیے جانے پر اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق نے تشویش ظاہر کی۔ ہندوستان نے اقوام متحدہ کے تبصرے کو غلط قرار دیتے ہوئے اسے ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت قرار دیا ہے۔نئی دہلی: دارالحکومت نئی دہلی میں 10 اکتوبر کو کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے احتجاج کے دوران متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا۔ اس معاملے پر اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ حراست میں لیے گئے افراد میں سماجی تنظیموں کے کارکنان، وکلا اور صحافی شامل ہیں۔ دوسری جانب ہندوستان نے اقوام متحدہ کے تبصرے کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ملک کے داخلی معاملات میں نامناسب مداخلت ہے۔اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل مشن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے اور یہاں کا آئین شہریوں کو پُرامن طریقے سے اجتماع کرنے کا حق دیتا ہے۔ ہندوستان کے مطابق، ملک کے ادارے، آزاد عدلیہ اور آزاد میڈیا اس حق کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ پُرامن اجتماع کے حق پر عوامی نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے مناسب قانونی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔
اقوام متحدہ نے کیا تشویش ظاہر کی؟
اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق کے ترجمان تھامین الخیتان نے دہلی میں احتجاج سے پہلے اور اس کے دوران بڑے پیمانے پر لوگوں کو حراست میں لیے جانے کی اطلاعات پر تشویش ظاہر کی تھی۔او ایچ سی ایچ آر نے ہندوستانی حکام سے اپیل کی کہ وہ شہریوں کے پُرامن احتجاج کے حق کا احترام کریں۔ دفتر نے کہا کہ اس حق پر عائد کی جانے والی پابندیاں ضرورت اور تناسب کے اصولوں پر پوری اترنی چاہئیں۔اقوام متحدہ نے مزید کہا کہ اگر کسی شخص کو من مانی طور پر حراست میں لیا گیا ہے تو اسے فوری طور پر اور غیر مشروط طور پر رہا کیا جانا چاہیے۔
کس معاملے پر کیا گیا تھا احتجاج؟
کاکروچ جنتا پارٹی نے 10 اکتوبر کو نئی دہلی میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر احتجاج کا اعلان کیا تھا۔ اس احتجاج میں خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے عمل پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔مظاہرین کا الزام ہے کہ ایس آئی آر کے عمل کے نتیجے میں بڑی تعداد میں لوگوں کے نام ووٹر لسٹ سے حذف کیے گئے ہیں۔ اسی معاملے کو لے کر سی جے پی نے چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کیا تھا۔
بھارت اایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

