Bharat Express DD Free Dish

Dr. Jitendra Singh: ٹیکنالوجی کے استعمال کنندہ نہیں، اب تخلیق کار بنے ہندوستان، پی ایچ ڈی سی سی آئی کے 121ویں سالانہ اجلاس میں بولے مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اپریل 2023 میں منظور کیے گئے ’نیشنل کوانٹم مشن‘ کا بھی ذکر کیا۔ اس مشن کے لیے 8 سال کے دوران 6003.65 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ یہ مشن چار اہم شعبوں، کوانٹم کمپیوٹنگ، کوانٹم مواصلات، کوانٹم سینسنگ اور کوانٹم مواد پر مرکوز ہے۔انہوں نے بایو ٹیکنالوجی اور ’بایو ای تھری‘ (معیشت، ماحولیات اور روزگار کے لیے بایو ٹیکنالوجی) پالیسی پر بھی روشنی ڈالی۔

نئی دہلی: مرکزی وزیر مملکت برائے سائنس و ٹیکنالوجی (آزادانہ چارج) ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا ہے کہ ہندوستان کو اب صرف دوسروں کی تیار کردہ ٹیکنالوجی استعمال کرنے والا ملک بن کر نہیں رہنا چاہیے، بلکہ اسے دنیا کے لیے جدید ٹیکنالوجی تیار کرنے، اس کی ترقی اور اختراع کرنے والا ملک بننا ہوگا۔ڈاکٹر جتیندر سنگھ نئی دہلی میں پی ایچ ڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (پی ایچ ڈی سی سی آئی) کے 121ویں سالانہ اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت، سائنسی اداروں، اسٹارٹ اپس اور نجی صنعتوں کو مل کر کام کرنا ہوگا، تاکہ تجربہ گاہوں میں ہونے والی تحقیق اور دریافتوں کو براہ راست بازار اور عام لوگوں تک پہنچایا جا سکے۔

خلائی اسٹارٹ اپس کی کامیابی کی مثال پیش کی

ہندوستان کی بڑھتی ہوئی تکنیکی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے مرکزی وزیر نے ملک کے خلائی شعبے میں آنے والی بڑی تبدیلیوں کی مثال دی۔ انہوں نے سرکاری اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ سال 2014 میں ملک میں صرف ایک خلائی اسٹارٹ اپ تھا، جس کی تعداد فروری 2026 تک بڑھ کر 400 سے زیادہ ہو گئی۔انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی درست پالیسی فیصلوں اور نجی شعبے کی شراکت داری سے ممکن ہوئی ہے۔ وزیر نے صنعتوں سے اپیل کی کہ وہ صرف موجودہ مصنوعات اور ٹیکنالوجی اپنانے تک محدود نہ رہیں، بلکہ عالمی معیار کی ایسی صنعتیں قائم کریں جو اپنی ٹیکنالوجی خود تیار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں۔

نیشنل کوانٹم مشن اور بایو ٹیکنالوجی پر زور

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اپریل 2023 میں منظور کیے گئے ’نیشنل کوانٹم مشن‘ کا بھی ذکر کیا۔ اس مشن کے لیے 8 سال کے دوران 6003.65 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ یہ مشن چار اہم شعبوں، کوانٹم کمپیوٹنگ، کوانٹم مواصلات، کوانٹم سینسنگ اور کوانٹم مواد پر مرکوز ہے۔انہوں نے بایو ٹیکنالوجی اور ’بایو ای تھری‘ (معیشت، ماحولیات اور روزگار کے لیے بایو ٹیکنالوجی) پالیسی پر بھی روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ حیاتیاتی بنیادوں پر تیار کیے جانے والے کیمیکلز، مخصوص مریضوں کے لیے مؤثر ادویات اور موسمیاتی تبدیلیوں کے مطابق زراعت کے شعبے میں انقلابی تبدیلیاں لانے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

کینسر کی تحقیق اور طبی شعبے میں نجی سرمایہ کاری کی اہمیت

مرکزی وزیر نے جوہری طب اور کینسر کی تحقیق کے شعبوں میں نجی صنعتوں کی شراکت داری کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان شعبوں میں نجی شعبے کی شرکت سے ملک میں علاج اور طبی آلات کی لاگت کم کرنے میں مدد ملے گی، جبکہ بیرونی ممالک پر انحصار بھی گھٹے گا۔اجلاس کے دوران پی ایچ ڈی سی سی آئی کے صدر راجیو جونجا نے ڈاکٹر جتیندر سنگھ کا استقبال کیا اور چھوٹی، بہت چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں (ایم ایس ایم ای) کو سائنس سے جوڑنے کے لیے ان کی کوششوں اور خدمات کی ستائش کی۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read