Bharat Express DD Free Dish

Rahul Gandhi On International Women Day: ”خواتین اپنی پہچان خود طے کریں“، عالمی یوم خواتین پر کیرالہ میں راہل گاندھی کی طالبات سے خاص بات چیت

دنیا بھر کی طرح بھارت میں بھی ہر سال 8 مارچ کو عالمی یوم خواتین منایا جاتا ہے، جس کا مقصد خواتین کی کامیابیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنا، ان کے حقوق کو اجاگر کرنا اور معاشرے میں ان کے کردار کو تسلیم کرنا ہے۔ کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے بھی یوم خواتین کے موقع پر کیرالہ میں طالبات سے خصوصی ملاقات کی اور خواتین کے کردار، چیلنجز اور ان کے مستقبل کے امکانات پر تفصیلی بات چیت کی۔

ترواننت پورم: دنیا بھر کی طرح بھارت میں بھی ہر سال 8 مارچ کو عالمی یوم خواتین منایا جاتا ہے، جس کا مقصد خواتین کی کامیابیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنا، ان کے حقوق کو اجاگر کرنا اور معاشرے میں ان کے کردار کو تسلیم کرنا ہے۔ اس موقع پر مختلف سماجی اور سیاسی شخصیات خواتین کے مسائل اور ان کے حقوق کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں۔ کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے بھی یوم خواتین کے موقع پر کیرالہ میں طالبات سے خصوصی ملاقات کی اور خواتین کے کردار، چیلنجز اور ان کے مستقبل کے امکانات پر تفصیلی بات چیت کی۔ راہل گاندھی نے اس ملاقات کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بھی شیئر کی۔ اپنے پیغام میں انہوں نے لکھا کہ کیرالہ کی نوجوان طالبات کے ساتھ گفتگو نہایت متاثر کن رہی۔ ان کے اعتماد، خوابوں اور مستقبل کے لیے عزم کو دیکھ کر یہ واضح ہوتا ہے کہ خواتین معاشرے میں مثبت تبدیلی کی سب سے بڑی طاقت بن سکتی ہیں۔ انہوں نے تمام خواتین کو عالمی یومِ خواتین کی مبارکباد بھی پیش کی۔

طالبات کے ساتھ اس غیر رسمی نشست میں راہل گاندھی نے مختلف موضوعات پر گفتگو کی۔ انہوں نے کیرالہ کی مقامی روایات کے بارے میں بھی دلچسپی ظاہر کی۔ ایک موقع پر انہوں نے طالبات سے سوال کیا کہ کیرالہ میں لوگ ہاتھ سے کھانا کیوں کھاتے ہیں اور اس کے پیچھے کیا روایت ہے۔ اس پر ایک طالبہ نے بتایا کہ یہ ریاست کی قدیم ثقافتی روایت ہے۔ خاص مواقع پر لوگ عموماً دائیں ہاتھ سے کھانا کھاتے ہیں اور روزمرہ کی زندگی میں بھی زیادہ تر لوگ اسی طریقے کو ترجیح دیتے ہیں، اگرچہ بعض اوقات دونوں ہاتھوں کا استعمال بھی کیا جاتا ہے۔ گفتگو کے دوران ایک طالبہ نے راہل گاندھی سے ایک دلچسپ سوال بھی کیا۔ اس کے جواب میں انہوں نے معروف بھارتی ایتھلیٹ پی ٹی اوشا کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک عظیم کھلاڑی ہیں اور لاکھوں لوگوں کے لیے تحریک کا ذریعہ بنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی لڑکی تیز دوڑتی ہے یا کھیلوں میں آگے بڑھنا چاہتی ہے تو اس میں کوئی برائی نہیں۔ اگر کوئی اس بات پر مذاق اڑاتا ہے تو گھبرانے کی ضرورت نہیں بلکہ اپنے مقصد پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے۔

راہل گاندھی نے خواتین کے کردار اور حقوق کے بارے میں بھی طالبات سے کھل کر گفتگو کی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ دنیا طویل عرصے تک مردوں کے زیر اثر رہی ہے جہاں اکثر اصول اور معیار مردوں کے نقطۂ نظر سے طے کیے جاتے رہے۔ تاہم اب وقت بدل رہا ہے اور خواتین اپنی صلاحیتوں کے ذریعے ہر شعبے میں اپنی جگہ بنا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو اپنی شناخت خود طے کرنے کا مکمل حق حاصل ہے اور انہیں عورت ہونے پر کبھی شرمندہ نہیں ہونا چاہیے۔ اپنی ذاتی زندگی کا حوالہ دیتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ وہ ایسے خاندان میں پروان چڑھے ہیں جہاں قیادت میں خواتین کا کردار بہت مضبوط رہا ہے۔ انہوں نے اپنی دادی اندرا گاندھی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک مضبوط اور بااثر شخصیت تھیں۔ راہل کے مطابق ان کے خاندان میں اکثر فیصلے خواتین کی قیادت میں ہوتے تھے اور یہی چیز ان کے لیے ہمیشہ متاثر کن رہی۔ انہوں نے کہا کہ خواتین نہ صرف مضبوط ہوتی ہیں بلکہ ذہین اور باصلاحیت بھی ہوتی ہیں اور اپنے مقاصد حاصل کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔

راہل گاندھی نے اس موقع پر خواتین کو درپیش موجودہ چیلنجز پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی معاشرے میں کئی جگہ روایتی سوچ یا دقیانوسی تصورات موجود ہیں جہاں خواتین سے محدود کردار ادا کرنے کی توقع کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ تعلیم، روزگار اور قیادت کے مواقع میں بھی مکمل برابری ابھی تک حاصل نہیں ہو سکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کی سلامتی اور عزت کا مسئلہ بھی ایک اہم چیلنج ہے۔ معاشرے میں ایسا ماحول بنانا ضروری ہے جہاں خواتین خود کو محفوظ اور باوقار محسوس کر سکیں۔ ان مسائل کے حل کے لیے انہوں نے تعلیم اور بیداری کو فروغ دینے پر زور دیا۔ راہل گاندھی کے مطابق گھر اور معاشرے دونوں سطحوں پر برابری کی سوچ کو فروغ دینا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو قیادت اور فیصلہ سازی کے مواقع فراہم کیے جانے چاہئیں تاکہ وہ معاشرے کی ترقی میں مزید فعال کردار ادا کر سکیں۔ ان کے مطابق اگر مرد اور خواتین مل کر مساوات اور احترام کے اصولوں پر کام کریں تو معاشرے میں حقیقی تبدیلی ممکن ہو سکتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read