Urdu Conclave 2026

India’s alarming vaccination gap: ٹیکہ کاری کے بحران کا شکار ہے ہندوستان،14.4 لاکھ بچوں کی زندگی خطرے میں، لانسیٹ کی رپورٹ میں انکشاف

لانسیٹ اسٹڈی کے مطابق، ہندوستان میں زیرو ڈوز بچے زیادہ تر پسماندہ طبقات سے تعلق رکھتے ہیں۔ 2016 کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ سب سے غریب طبقے میں زیرو ڈوز بچوں کی شرح 15.3فیصد تھی، جبکہ ایسی ماؤں کے بچوں میں یہ شرح 16.8 فیصد تھی۔

ہندوستان، جو اپنی عالمی ویکسین پروڈکشن کی صلاحیت کے لیے جانا جاتا ہے، آج ایک سنگین چیلنج کا سامنا کر رہا ہے۔ سال2023 میں 14.4 لاکھ بچوں کو کوئی ویکسین نہیں ملی، یعنی وہ “زیرو ڈوز” بچوں کی فہرست میں شامل ہیں۔ لانسیٹ جرنل میں 25 جون 2025 کو شائع ہونے والے گلوبل برڈن آف ڈیزیز اسٹڈی کے مطابق، ہندوستان نائیجیریا کے بعد دنیا کا دوسرا ملک ہے جہاں زیرو ڈوز بچوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ یہ اسٹڈی 1980 سے 2023 تک ویکسین کوریج کے رجحانات کا جائزہ لیتی ہے اور انکشاف کرتی ہے کہ اگرچہ اس عرصے میں ویکسینیشن کی شرح میں نمایاں بہتری آئی ہے، لیکن 2010 کے بعد پیشرفت تقریباً رُک گئی ہے۔ یہ صورتحال ہندوستان کے لیے ایک سنگین انتباہ ہے، کیونکہ ویکسین سے بچاؤ والی بیماریاں جیسے خسرہ، ڈیفیتھریاوغیرہ لاکھوں بچوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔

اسٹڈی کے مطابق، عالمی سطح پر 2023 میں 1.57 کروڑ بچے زیرو ڈوز تھے، جن میں سے دو تہائی (65فیصد) سب سہارا افریقہ اور جنوبی ایشیا میں ہیں۔ جنوبی ایشیا میں 1.33 ملین زیرو ڈوز بچوں میں ہندوستان کا حصہ 13.2فیصد ہے۔ دنیا کے آٹھ ممالک—نائیجیریا، ہندوستان، ایتھوپیا، کانگو، سوڈان، انڈونیشیا، پاکستان، اور یمن میں عالمی زیرو ڈوز بچوں کی نصف سے زیادہ تعداد رہتی ہے۔ ہندوستان میں زیرو ڈوز بچوں کی تعداد نہ صرف ایک بڑی تعداد ہے بلکہ ملک کی آبادی کے تناسب سے بھی تشویشناک ہے، جو کہ کئی دیگر ممالک سے کہیں زیادہ ہے۔

کووڈ-19 کی وبا کا اثر

کووڈ-19 وبا نے ویکسینیشن کی کوریج کو شدید متاثر کیا۔ 2020 سے 2023 تک، عالمی سطح پر تقریباً 1.56 کروڑ بچوں کو ڈی ٹی پی (ڈیفیتھریا، تشنج، پرٹیوسس) یا خسرہ کی ویکسین کی مکمل خوراکیں نہیں ملیں۔ ہندوستان میں بھی اس عرصے کے دوران ویکسینیشن پروگرامز میں خلل پڑا، جس کی وجہ سے زیرو ڈوز اور انڈر ویکسینیٹڈ بچوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ وبا کے دوران لاک ڈاؤن، صحت کے نظام پر دباؤ، اور ویکسین کی تقسیم میں رکاوٹوں نے اس صورتحال کو مزید خراب کیا۔ اس کے علاوہ، ویکسین سے متعلق غلط معلومات اور ہچکچاہٹ نے بھی عوام کے اعتماد کو متاثر کیا، جس سے ویکسینیشن کی شرح میں کمی آئی۔

زیرو ڈوز بچوں کی حالت

زیرو ڈوز بچوں کی حالت نہ صرف صحت کے شعبے کے لیے ایک چیلنج ہے بلکہ یہ سماجی اور معاشی عدم مساوات کی عکاسی بھی کرتی ہے۔ لانسیٹ اسٹڈی کے مطابق، ہندوستان میں زیرو ڈوز بچے زیادہ تر پسماندہ طبقات سے تعلق رکھتے ہیں۔ 2016 کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ سب سے غریب طبقے میں زیرو ڈوز بچوں کی شرح 15.3فیصد تھی، جبکہ ایسی ماؤں کے بچوں میں یہ شرح 16.8 فیصد تھی،جنہوں نے کبھی اسکول نہیں دیکھا۔ یہ بچے نہ صرف ویکسین سے محروم ہیں بلکہ غذائی قلت کے بھی شکار ہیں۔ 2016 میں، زیرو ڈوز بچوں میں شدید غذائی قلت کی شرح 24.9فیصدتھی، جبکہ ویکسینیٹڈ بچوں میں یہ 18.7فیصد تھی۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ زیرو ڈوز بچوں کی حالت کس قدر نازک ہے اور وہ کس طرح کئی طرح کی کمزوریوں کا شکار ہیں۔

ہندوستان کے اندر ویکسینیشن کی کوریج میں نمایاں علاقائی تفاوت موجود ہیں۔ کم ترقی یافتہ ریاستیں اور اضلاع، جیسے کہ اتر پردیش، بہار، اور مدھیہ پردیش، زیرو ڈوز بچوں کی زیادہ تعداد کے مراکز ہیں۔ اس کے علاوہ، کئی شہری علاقوں میں بھی یہ مسئلہ سنگین ہے، جہاں غربت، نقل مکانی، اور صحت کی سہولیات تک رسائی کی کمی ویکسینیشن کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ مطالعہ نے 2016 میں اندازہ لگایا تھا کہ ہندوستان میں 2.88 ملین زیرو ڈوز بچے تھے، جو زیادہ تر انہی علاقوں میں مرتکز تھے۔ 2023 تک یہ تعداد کم ہو کر 1.44 ملین ہوئی، لیکن یہ اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔

ماہرین کی تجاویز

مطالعہ کے سینئر مصنف جوناتھن موسر، جو واشنگٹن یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ فار ہیلتھ میٹرکس اینڈ ایویلیوایشن سے وابستہ ہیں، نے کہا کہ گزشتہ 50 سالوں کی کوششوں کے باوجود ویکسینیشن کی پیشرفت عالمگیر نہیں رہی۔ انہوں نے زور دیا کہ ہندوستان جیسے متنوع ملک میں مقامی اور ثقافتی طور پر حساس پروگرامز کی ضرورت ہے۔ ایمیلی ہاؤزر نے بھی اس بات پر زور دیا کہ ویکسین کی ترسیل اور قبولیت کو بہتر بنانے کے لیے نئی اور موزوں حکمت عملیوں کی ضرورت ہے۔واضح رہے کہ ہندوستان میں 14.4 لاکھ زیرو ڈوز بچوں کی موجودگی نہ صرف ایک صحت کا بحران ہے بلکہ یہ سماجی انصاف کا سوال بھی ہے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read