نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کے روز کہا کہ بدلتی ہوئی عالمی سپلائی چینز کے اس دور میں وہ بھارتی کمپنیاں جو صاف اور سبز توانائی میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں، عالمی منڈیوں تک بہتر رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گی۔ انہوں نے زور دیا کہ پائیدار ترقی کو اب کاروباری حکمتِ عملی کا بنیادی حصہ بنانا ہوگا۔ مرکزی بجٹ کے بعد منعقدہ ایک ویبینار سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اس سال کا بجٹ معاشی نمو کو برقرار رکھنے اور اسے مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔ ان کے مطابق بھارت تیزی سے ترقی یافتہ ملک کی سمت گامزن ہے اور اس سفر میں توانائی کے شعبے کی تبدیلی کلیدی کردار ادا کرے گی۔
وزیر اعظم نے کہا، ”پائیدار ترقی، کاربن کیپچر، اس کا استعمال اور ذخیرہ کرنے کا مشن اہم اقدامات ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ صنعتیں پائیدار ترقی کو اپنی کاروباری حکمتِ عملی کا مرکزی ستون بنائیں۔ اس سال کے بجٹ نے اس سمت میں ایک مضبوط فریم ورک فراہم کیا ہے“۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس فریم ورک کی کامیابی کے لیے صنعت، سرمایہ کاروں اور دیگر شراکت داروں کو مل کر کام کرنا ہوگا اور زمینی سطح پر اجتماعی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
انہوں نے پالیسی سازوں اور صنعتکاروں سے اپیل کی کہ وہ حکومت کے اقدامات کے ساتھ جڑیں اور مسلسل تجاویز دیتے رہیں تاکہ اصلاحات کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔ وزیر اعظم کے مطابق عالمی سپلائی چینز میں تیزی سے تبدیلی آ رہی ہے اور ایسے ماحول میں بھارت کے لیے موقع ہے کہ وہ خود کو ایک مضبوط مینوفیکچرنگ اور برآمدی مرکز کے طور پر قائم کرے۔ انہوں نے کہا، ”ہمارا عزم واضح ہے — زیادہ مینوفیکچرنگ، زیادہ پیداوار، زیادہ رابطہ کاری اور زیادہ برآمدات“۔ ان کا کہنا تھا کہ توانائی کے شعبے میں خود کفالت اور سبز ٹیکنالوجی میں پیش رفت بھارت کو عالمی مسابقت میں نمایاں مقام دلا سکتی ہے۔
حکومت نے وزارتِ جدید و قابلِ تجدید توانائی کے لیے بجٹ میں ریکارڈ 32 ہزار 914 کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔ اس میں سے 22 ہزار کروڑ روپے سولر روف ٹاپ اسکیم ‘پی ایم سوریہ گھر یوجنا’ کے لیے رکھے گئے ہیں، جس کا مقصد گھریلو سطح پر شمسی توانائی کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف بجلی کے بلوں میں کمی آئے گی بلکہ کاربن اخراج میں بھی نمایاں کمی ممکن ہو سکے گی۔ گرین انرجی کوریڈور پروجیکٹ کے لیے 600 کروڑ روپے کا انتظام کیا گیا ہے تاکہ بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنا کر قابلِ تجدید توانائی کو قومی گرڈ سے مؤثر انداز میں جوڑا جا سکے۔ اسی طرح قومی گرین ہائیڈروجن مشن کے لیے مالی سال 2026-27 میں 600 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جو گزشتہ سال کے برابر ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ مینوفیکچرنگ، لاجسٹکس، ایم ایس ایم ای شعبہ اور چھوٹے شہر بھارت کی ترقی کے اہم ستون ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اقتصادی ترقی کو مضبوط بنانے کے وسیع موضوع کے تحت بجٹ کے بعد چار علیحدہ سیشن منعقد کیے جا رہے ہیں، جن میں صنعتی اپ گریڈیشن، اسٹریٹجک سیکٹرز، ایم ایس ایم ای، مالیات، منڈی تک رسائی، شہری اقتصادی مراکز، بنیادی ڈھانچہ اور مال برداری جیسے موضوعات شامل ہیں۔ ان مباحثوں کا مقصد یہ سمجھنا ہے کہ بجٹ میں اعلان کردہ اصلاحات صنعتی صلاحیت میں اضافے، مسابقت میں بہتری اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں کس طرح معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔ وزیر اعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سبز توانائی میں سرمایہ کاری بھارت کو نہ صرف ماحولیاتی تحفظ میں آگے لے جائے گی بلکہ عالمی اقتصادی نظام میں بھی مضبوط مقام دلائے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


