نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کو اپنے ماہانہ ریڈیو پروگرام من کی بات کے 131ویں ایپی سوڈ میں ملک کے کسانوں کی بدلتی ہوئی سوچ، جدید زرعی طریقوں اور نئے بازاروں کی جانب بڑھتے رجحان کو سراہتے ہوئے کہا کہ بھارتی زراعت تیزی سے جدید دور کے تقاضوں کے مطابق آگے بڑھ رہی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ آج ملک کے کسان صرف روایتی کھیتی تک محدود نہیں رہے بلکہ نئی منڈیوں، جدید ٹیکنالوجی اور متنوع زرعی ماڈلز کو اپنا کر اپنی آمدنی اور پیداوار دونوں میں اضافہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس تبدیلی کو دیہی معیشت کے لیے انتہائی مثبت قرار دیا۔
اپنے خطاب کے دوران وزیر اعظم نے اڈیشہ کے نوجوان کسان ہیرود پٹیل کی حوصلہ افزا کامیابی کی مثال پیش کی۔ انہوں نے بتایا کہ تقریباً آٹھ برس قبل ہیرود پٹیل اپنے والد شیوشنکر پٹیل کے ساتھ روایتی انداز میں دھان کی کاشت کیا کرتے تھے، مگر بعد میں انہوں نے جدید سوچ کے ساتھ اپنے کھیت کو ایک کثیر المقاصد زرعی ماڈل میں تبدیل کر دیا۔
ہیرود پٹیل نے کھیت میں موجود تالاب کے اوپر مضبوط جالی دار ڈھانچہ تیار کرکے اس پر بیل دار سبزیاں اگانا شروع کیں، جبکہ تالاب کے اطراف کیلے، امرود اور ناریل کے درخت لگائے۔ اس کے ساتھ ساتھ تالاب میں مچھلی پروری بھی شروع کی گئی۔ اس مربوط نظام کے باعث ایک ہی جگہ پر فصل، سبزی، پھل اور مچھلی کی پیداوار ممکن ہوئی، جس سے زمین اور پانی کا بہتر استعمال ہوا اور آمدنی میں نمایاں اضافہ دیکھنے کو ملا۔
وزیر اعظم نے کیرالہ کے ضلع تریشور کے ایک گاؤں کا بھی ذکر کیا جہاں ایک ہی کھیت میں دھان کی 570 اقسام کی کاشت کی جا رہی ہے۔ ان میں مقامی، جڑی بوٹیوں پر مبنی اور دیگر ریاستوں سے لائی گئی اقسام شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام صرف زراعت نہیں بلکہ بیجوں کی قدیم وراثت کو محفوظ رکھنے کی ایک بڑی مہم ہے۔ وزیر اعظم مودی کے مطابق کسانوں کی محنت کے مثبت نتائج قومی پیداوار کے اعداد و شمار میں بھی نظر آ رہے ہیں۔ بھارت آج دنیا کا سب سے بڑا چاول پیدا کرنے والا ملک بن چکا ہے اور سالانہ پیداوار 15 کروڑ ٹن سے تجاوز کر گئی ہے، جس سے نہ صرف ملکی ضروریات پوری ہو رہی ہیں بلکہ عالمی غذائی فراہمی میں بھی بھارت اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


