Bharat Express DD Free Dish

Mann Ki Baat message

شریا مندرا نے کہا کہ وزیر اعظم نے نہ صرف ان کی کامیابی کا ذکر کیا بلکہ اس مقابلے کے پورے عمل کو بھی تفصیل سے بیان کیا، جس سے دیگر طلبہ کو اس کے بارے میں آگاہی ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ ممکن ہے اس سے مزید طلبہ ریاضی جیسے مضمون میں دلچسپی لینے لگیں، جو اکثر مشکل سمجھا جاتا ہے۔

وزیر اعظم مودی نے اپنے خطاب میں بانس سے متعلق قوانین میں کی گئی تبدیلیوں کے مثبت اثرات پر بات کی۔ انہوں نے خاص طور پر شمال مشرقی ریاستوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں بانس سے متعلق صنعتیں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ اسی ضمن میں انہوں نے جنوبی تریپورہ کے پردیپ چکرورتی اور گومتی ضلع کے بیجوئے سوتردھار کا حوالہ دیا اور کہا کہ ان افراد نے نئی پالیسیوں کو ایک موقع کے طور پر اپنایا اور اپنی محنت سے کاروبار کو آگے بڑھایا۔

وزیر اعظم مودی نے اتوار کو اپنے ماہانہ ریڈیو پروگرام من کی بات کے 131ویں ایپی سوڈ میں ملک کے کسانوں کی بدلتی ہوئی سوچ، جدید زرعی طریقوں اور نئے بازاروں کی جانب بڑھتے رجحان کو سراہتے ہوئے کہا کہ بھارتی زراعت تیزی سے جدید دور کے تقاضوں کے مطابق آگے بڑھ رہی ہے۔

وزیر اعظم مودی نے اپنے ماہانہ ریڈیو پروگرام من کی بات کے 131ویں ایپی سوڈ کے ذریعے ملک کے عوام سے خطاب کرتے ہوئے ڈیجیٹل اریسٹ اور آن لائن مالی دھوکہ دہی کے بڑھتے واقعات پر گہری تشویش ظاہر کی اور شہریوں سے محتاط رہنے کی اپیل کی۔

وزیر اعظم مودی آج اتوار کی صبح 11 بجے اپنے مقبول ماہانہ ریڈیو پروگرام من کی بات کے ذریعے ایک بار پھر ملک اور بیرونِ ملک مقیم ہندوستانیوں سے خطاب کریں گے۔ سال 2026 کی یہ دوسری جبکہ اس پروگرام کی مجموعی طور پر 131ویں قسط ہوگی، جسے لے کر عوام میں خاصا جوش و خروش پایا جا رہا ہے۔

وزیراعظم مودی نے اتوار کو ’من کی بات‘ کے 130ویں قسط میں ملک کے نوجوانوں کی جانب سے چلائی جانے والی صفائی مہم کو سراہا۔ وزیراعظم نے کہا کہ صفائی ہمیشہ ہماری زندگی اور ترقیاتی منصوبوں کا ایک اہم حصہ رہی ہے اور آج ملک کے نوجوان اپنے شہروں اور گاؤں کو صاف رکھنے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے ماہانہ ریڈیو پروگرام ’من کی بات‘ کے 127ویں ایڈیشن میں ہندوستانی کافی کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی مقبولیت کی تعریف کی۔ انہوں نے خاص طور پر کرناٹک کے چکمنگلور، کورگ اور ہاسن سمیت جنوبی ہند کے دیگر کافی پیدا کرنے والے علاقوں کے کسانوں اور مزدوروں کی کوششوں کو سراہا، جنہوں نے دنیا بھر میں ہندوستانی کافی کی پہچان بنائی ہے۔

اصل میں بھگوان بدھ کے یہ مقدس آثار آندھرا پردیش کے پالناڈو ضلع کے ناگرجناکونڈا میں دریافت ہوئے تھے۔ اس جگہ کا بدھ مت سے گہرا تعلق ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک زمانے میں سری لنکا اور چین سمیت دور دراز علاقوں سے لوگ اس جگہ پر آتے تھے۔