نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کے روز اپنے ماہانہ ریڈیو پروگرام ”من کی بات“ میں یورپین گرلز میتھمیٹیکل اولمپیاڈ میں گولڈ میڈل جیتنے والی بھارتی طالبہ شریا مندرا کی کامیابی کا خصوصی طور پر ذکر کیا، جس کے بعد طالبہ اور ان کے اہل خانہ نے وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا۔ اس اعتراف کو شریا اور ان کے خاندان نے اپنے لیے باعث فخر قرار دیا ہے۔ شریا مندرا نے خبر رساں ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نے نہ صرف ان کی کامیابی کا ذکر کیا بلکہ اس مقابلے کے پورے عمل کو بھی تفصیل سے بیان کیا، جس سے دیگر طلبہ کو اس کے بارے میں آگاہی ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ ممکن ہے اس سے مزید طلبہ ریاضی جیسے مضمون میں دلچسپی لینے لگیں، جو اکثر مشکل سمجھا جاتا ہے۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ نہ تو انہوں نے اور نہ ہی ان کے خاندان نے کبھی یہ تصور کیا تھا کہ وہ اس مقابلے میں گولڈ میڈل حاصل کر سکیں گی۔ شریا نے اس کامیابی کا سہرا اپنی محنت کے ساتھ ساتھ حکومت کی جانب سے فراہم کردہ تربیت کو بھی دیا۔ انہوں نے خاص طور پر ہومی بھابھا سینٹر فار سائنس ایجوکیشن میں ملنے والی کوچنگ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس تربیت نے ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کیا۔ شریا نے اولمپیاڈ کے مختلف مراحل کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ابتدائی مرحلے میں کمپیوٹیشنل راؤنڈ ہوتا ہے، جس میں تین گھنٹوں کے اندر 30 سوالات حل کرنے ہوتے ہیں۔ اس مرحلے میں ہر ریاست سے تقریباً 250 طلبہ کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد ریجنل میتھمیٹکس اولمپیاڈ کا مرحلہ آتا ہے، جس میں ہر ریاست سے تقریباً 35 طلبہ منتخب ہوتے ہیں اور انہیں تین گھنٹوں میں چھ مشکل سوالات حل کرنے ہوتے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ قومی سطح تک پہنچنے کے لیے علاقائی سطح پر خصوصی تربیت دی جاتی ہے، جس میں مختلف ٹریننگ کیمپس منعقد کیے جاتے ہیں اور اساتذہ طلبہ کی رہنمائی کرتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ تربیت ان کے لیے نہایت مفید ثابت ہوئی اور اسی نے انہیں بین الاقوامی سطح تک پہنچنے میں مدد دی۔ شریا نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ اس طرح کے اولمپیاڈ مقابلوں میں لڑکیوں کی شرکت اب بھی کم ہے۔ انہوں نے اس کی ایک بڑی وجہ سکیورٹی کے خدشات کو قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی مراحل کے بعد رہائشی کیمپس منعقد کیے جاتے ہیں، جہاں والدین اپنی بیٹیوں کو بھیجنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ اگر ان کیمپس کی سکیورٹی کو مزید بہتر بنایا جائے تو زیادہ لڑکیاں اس میں حصہ لے سکیں گی۔
شریا کے والد شانتنو مندرا نے بھی وزیر اعظم کی جانب سے ان کی بیٹی کی کامیابی کا ذکر کیے جانے کو ایک قابلِ فخر لمحہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اولمپیاڈ کی تیاری اور عام مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری میں فرق ہوتا ہے، کیونکہ اولمپیاڈ میں تصورات کی گہری سمجھ پر زور دیا جاتا ہے۔ انہوں نے والدین کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے بچوں کو آزادی اور اعتماد دیں تاکہ وہ اپنی دلچسپی کے مطابق میدان کا انتخاب کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی جانب سے بیٹیوں کی حوصلہ افزائی سے دیگر والدین بھی اپنی بیٹیوں کو آگے بڑھنے کا موقع دیں گے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


