Bharat Express DD Free Dish

India-New Zealand FTA to boost exports: بھارت۔نیوزی لینڈ آزاد تجارتی معاہدہ، ٹیکسٹائل، دواسازی، انجینئرنگ، زراعت اور خدماتی شعبوں میں برآمدات میں زبردست اضافے کی امید

مالی سال 2024-25 میں بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان دوطرفہ تجارتی حجم 1.3 ارب ڈالر رہا، جو پچھلے سال کے مقابلے 49 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ زیرو ڈیوٹی رسائی، ضابطہ جاتی آسانیوں اور خدماتی شعبے کی آزادی سے یہ معاہدہ بھارتی برآمدات کے لیے نئی راہیں کھولے گا اور بحرالکاہل خطے میں بھارت کی موجودگی مزید مضبوط ہوگی۔

نئی دہلی: بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان طے پانے والا آزاد تجارتی معاہدہ (FTA) بھارتی برآمدات کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہونے والا ہے۔ معاہدے کے نافذ ہوتے ہی نیوزی لینڈ نے بھارت کی تمام برآمدات کے لیے اپنی 100 فیصد ٹیرف لائنز پر زیرو ڈیوٹی مارکیٹ رسائی فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

محنت طلب شعبے سب سے بڑے فائدہ میں

محنت طلب صنعتوں کو اس معاہدے سے سب سے زیادہ فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔ نیوزی لینڈ نے وہ تمام محصولات ختم کر دیے ہیں جو پہلے 10 فیصد تک تھے۔ اس کے نتیجے میں بھارت کے ٹیکسٹائل اور ملبوسات کے برآمد کنندگان کو 1,057 ٹیرف لائنز پر مکمل زیرو ڈیوٹی رسائی حاصل ہوگی۔ مالی سال 2024-25 میں بھارت کی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات 36.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ نیوزی لینڈ کو برآمدات 103 ملین ڈالر رہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ رجحان مزید تیز ہوگا، کیونکہ نیوزی لینڈ سالانہ تقریباً 1.9 ارب ڈالر کا ٹیکسٹائل درآمد کرتا ہے۔

چمڑا اور جوتا صنعت کو بھی بڑا سہارا

چمڑا اور فٹ ویئر کا شعبہ بھی اس معاہدے سے مستفید ہوگا، جہاں 181 ٹیرف لائنز پر محصولات مکمل طور پر ختم کر دیے گئے ہیں۔ بھارت کی چمڑے کی برآمدات 5.5 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں، جبکہ نیوزی لینڈ دنیا بھر سے سالانہ 500 ملین ڈالر سے زائد مالیت کی چمڑے کی مصنوعات درآمد کرتا ہے۔

انجینئرنگ اور فارما سیکٹر کو تقویت

انجینئرنگ مصنوعات کے شعبے میں 1,396 ٹیرف لائنز پر ڈیوٹی ختم کی گئی ہے۔ 2024-25 میں نیوزی لینڈ کو بھارت کی انجینئرنگ برآمدات 47.8 ملین ڈالر سے بڑھ کر 68.3 ملین ڈالر ہو گئیں، جبکہ نیوزی لینڈ کی سالانہ عالمی درآمدات تقریباً 11 ارب ڈالر کی ہیں۔ اسی طرح دواسازی (فارما) کے شعبے کو 90 ٹیرف لائنز پر زیرو ڈیوٹی رسائی ملے گی۔ نیوزی لینڈ ہر سال تقریباً 1.4 ارب ڈالر کی فارما مصنوعات درآمد کرتا ہے۔ اس کے علاوہ امریکی ایف ڈی اے، یورپی ای ایم اے اور برطانوی ایم ایچ آر اے جیسے اداروں کی جانچ قبول کیے جانے سے منظوری کے عمل میں تیزی آئے گی اور اخراجات کم ہوں گے۔

زراعت، غذائی اشیا اور میری ٹائم سیکٹر کو فائدہ

بھارت کی زرعی اور پروسیسڈ فوڈ برآمدات کو بھی اس معاہدے سے تقویت ملے گی۔ پھلوں، سبزیوں، اناج، کافی، مصالحوں اور غذائی مصنوعات پر 5 فیصد تک کی ڈیوٹی ختم کر دی گئی ہے۔ یہ شعبہ 1,379 ٹیرف لائنز پر محیط ہے۔ مالی سال 2024-25 میں بھارت کی زرعی برآمدات 51.8 ارب ڈالر رہیں۔ اسی طرح میری ٹائم سیکٹر میں 363 ٹیرف لائنز پر محصولات صفر کر دیے گئے ہیں، جبکہ نیوزی لینڈ اس شعبے میں سالانہ 260 ملین ڈالر کی درآمدات کرتا ہے۔

پلاسٹک، ربڑ اور خدماتی شعبے میں نئی راہیں

پلاسٹک اور ربڑ کے شعبے میں 397 ٹیرف لائنز پر مکمل ڈیوٹی خاتمہ کیا گیا ہے۔ گزشتہ مالی سال میں اس شعبے کی برآمدات 18.9 ملین ڈالر سے بڑھ کر 23.7 ملین ڈالر ہو گئیں۔ خدماتی شعبے میں یہ معاہدہ نیوزی لینڈ کی جانب سے اب تک کی بہترین پیشکش مانا جا رہا ہے، جس میں 118 خدماتی شعبے شامل ہیں، جیسے آئی ٹی، تعلیم، صحت، تعمیرات، سیاحت اور آڈیو ویژول خدمات۔

ٹیلنٹ اور روزگار کے لیے نئے مواقع

معاہدے میں ہنرمند افراد کی نقل و حرکت کے لیے بھی خصوصی دفعات شامل ہیں، جن میں اسٹیم گریجویٹس کے لیے 3 سالہ پوسٹ اسٹڈی ورک ویزا، ڈاکٹریٹ اسکالرز کے لیے 4 سالہ ویزا، 5,000 ہنرمند پیشہ ور افراد کے لیے عارضی ملازمت ویزا اور سالانہ 1,000 ورکنگ ہالیڈے ویزے شامل ہیں۔

دوطرفہ تجارت میں نئی رفتار

مالی سال 2024-25 میں بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان دوطرفہ تجارتی حجم 1.3 ارب ڈالر رہا، جو پچھلے سال کے مقابلے 49 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ زیرو ڈیوٹی رسائی، ضابطہ جاتی آسانیوں اور خدماتی شعبے کی آزادی سے یہ معاہدہ بھارتی برآمدات کے لیے نئی راہیں کھولے گا اور بحرالکاہل خطے میں بھارت کی موجودگی مزید مضبوط ہوگی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read