Bharat Express DD Free Dish

India New Zealand FTA

حکومت کا خیال ہے کہ بھارت-نیوزی لینڈ ایف ٹی اے دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات کو نئی مضبوطی دے گا اور آنے والے برسوں میں باہمی تجارت کو دوگنا کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ وزارت تجارت کے مطابق، یہ معاہدہ زراعت، مینوفیکچرنگ، بنیادی ڈھانچے اور اسٹارٹ اپس جیسے شعبوں میں نیوزی لینڈ سے بھارت میں 20 ارب ڈالر تک کی سرمایہ کاری کی راہ بھی ہموار کرے گا۔

بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ 20 اکتوبر کو وجے دشمی کے موقع پر نافذ ہوگا، معاہدے سے بھارتی برآمدات کو ڈیوٹی فری رسائی ملے گی اور ایم ایس ایم ای، کسانوں، نوجوانوں اور محنت پر مبنی شعبوں کے لیے مواقع بڑھیں گے۔

یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات میں ایک تاریخی موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف تجارت کے نئے دروازے کھلیں گے بلکہ سرمایہ کاری، خدمات اور زرعی تعاون میں بھی نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارتی طلبہ اور نوجوانوں کے لیے روزگار اور پیشہ ورانہ مواقع میں بھی اضافہ ہوگا۔

بھارت اور نیوزی لینڈ نے پیر کے روز ایک اہم آزادانہ تجارتی معاہدہ (فری ٹریڈ ایگریمنٹ) پر دستخط کر دیے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو نئی رفتار ملنے کی امید ہے۔ اس معاہدے کے تحت بھارت کو نیوزی لینڈ کی منڈیوں تک ٹیرف فری رسائی حاصل ہو جائے گی، جبکہ دونوں ممالک نے آئندہ پانچ برسوں میں باہمی تجارت کو دوگنا کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

بھارت اور نیوزی لینڈ نےایک جامع، متوازن اور مستقبل پر مبنی آزادانہ تجارتی معاہدہ (ایف ٹی اے) کیا ہے، جو وزیر اعظم مودی کی دور اندیش قیادت میں ہند-بحرالکاہل خطے کے ساتھ بھارت کے تعلقات میں ایک اہم اقتصادی اور اسٹریٹجک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

وزیر اعظم مودی نے نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم کرسٹوفر لکسن سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔ دونوں لیڈروں نے مشترکہ طور پر تاریخی، جرأت مندانہ اور دونوں ملکوں کے لیے فائدے مند بھارت-نیوزی لینڈ آزادانہ تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) کا اعلان کیا۔

مالی سال 2024-25 میں بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان دوطرفہ تجارتی حجم 1.3 ارب ڈالر رہا، جو پچھلے سال کے مقابلے 49 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ زیرو ڈیوٹی رسائی، ضابطہ جاتی آسانیوں اور خدماتی شعبے کی آزادی سے یہ معاہدہ بھارتی برآمدات کے لیے نئی راہیں کھولے گا اور بحرالکاہل خطے میں بھارت کی موجودگی مزید مضبوط ہوگی۔