India-New Zealand Free Trade Agreement: بھارت–نیوزی لینڈ فری ٹریڈ معاہدہ: عالمی کشیدگی کے بیچ نئی اقتصادی پیش رفت، تجارت اور روزگار کے وسیع مواقع متوقع
یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات میں ایک تاریخی موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف تجارت کے نئے دروازے کھلیں گے بلکہ سرمایہ کاری، خدمات اور زرعی تعاون میں بھی نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارتی طلبہ اور نوجوانوں کے لیے روزگار اور پیشہ ورانہ مواقع میں بھی اضافہ ہوگا۔
India Seals Trade Pact With New Zealand: بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان آزادانہ تجارتی معاہدہ طے، بھارتی مصنوعات کو ٹیرف فری رسائی حاصل
بھارت اور نیوزی لینڈ نے پیر کے روز ایک اہم آزادانہ تجارتی معاہدہ (فری ٹریڈ ایگریمنٹ) پر دستخط کر دیے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو نئی رفتار ملنے کی امید ہے۔ اس معاہدے کے تحت بھارت کو نیوزی لینڈ کی منڈیوں تک ٹیرف فری رسائی حاصل ہو جائے گی، جبکہ دونوں ممالک نے آئندہ پانچ برسوں میں باہمی تجارت کو دوگنا کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
India-New Zealand Free Trade Agreement: بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان تاریخی آزادانہ تجارتی معاہدے سے متعلق مذاکرات مکمل
بھارت اور نیوزی لینڈ نےایک جامع، متوازن اور مستقبل پر مبنی آزادانہ تجارتی معاہدہ (ایف ٹی اے) کیا ہے، جو وزیر اعظم مودی کی دور اندیش قیادت میں ہند-بحرالکاہل خطے کے ساتھ بھارت کے تعلقات میں ایک اہم اقتصادی اور اسٹریٹجک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
PM Modi Holds Talks With New Zealand PM: وزیر اعظم مودی کی نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم سے ٹیلی فون پر بات چیت، بھارت-نیوزی لینڈ آزادانہ تجارتی معاہدے کا اعلان
وزیر اعظم مودی نے نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم کرسٹوفر لکسن سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔ دونوں لیڈروں نے مشترکہ طور پر تاریخی، جرأت مندانہ اور دونوں ملکوں کے لیے فائدے مند بھارت-نیوزی لینڈ آزادانہ تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) کا اعلان کیا۔
India-New Zealand FTA to boost exports: بھارت۔نیوزی لینڈ آزاد تجارتی معاہدہ، ٹیکسٹائل، دواسازی، انجینئرنگ، زراعت اور خدماتی شعبوں میں برآمدات میں زبردست اضافے کی امید
مالی سال 2024-25 میں بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان دوطرفہ تجارتی حجم 1.3 ارب ڈالر رہا، جو پچھلے سال کے مقابلے 49 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ زیرو ڈیوٹی رسائی، ضابطہ جاتی آسانیوں اور خدماتی شعبے کی آزادی سے یہ معاہدہ بھارتی برآمدات کے لیے نئی راہیں کھولے گا اور بحرالکاہل خطے میں بھارت کی موجودگی مزید مضبوط ہوگی۔





