نئی دہلی: ایک جانب مشرق وسطیٰ میں جاری جنگی حالات نے عالمی معیشت کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر رکھا ہے، تیل و گیس کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے اور مہنگائی میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے، وہیں دوسری جانب بھارت تیزی سے اپنے تجارتی تعلقات کو وسعت دینے میں مصروف ہے۔ اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی کے طور پر بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان طویل عرصے سے زیر التوا فری ٹریڈ ایگریمنٹ (ایف ٹی اے) اب حتمی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جس پر آئندہ پیر کو دستخط کیے جانے کی توقع ہے۔ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات میں ایک تاریخی موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف تجارت کے نئے دروازے کھلیں گے بلکہ سرمایہ کاری، خدمات اور زرعی تعاون میں بھی نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارتی طلبہ اور نوجوانوں کے لیے روزگار اور پیشہ ورانہ مواقع میں بھی اضافہ ہوگا۔ رپورٹس کے مطابق مارچ 2025 میں دونوں ممالک نے ایک جامع تجارتی معاہدے کی سمت مذاکرات شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اب نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم کرسٹوفر لکسن نے باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ یہ معاہدہ اگلے ہفتے طے پا جائے گا۔ انہوں نے اسے ایک بڑی اقتصادی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نیوزی لینڈ کے برآمد کنندگان کو بھارت کی 140 کروڑ آبادی پر مشتمل وسیع منڈی تک رسائی حاصل ہوگی۔
اگرچہ نیوزی لینڈ کی حکومت کے کچھ اراکین نے اس معاہدے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، تاہم وہاں کی اپوزیشن جماعتوں نے اس کا خیرمقدم کیا ہے۔ سیاسی اور اقتصادی سطح پر اس معاہدے کو دونوں ممالک کے درمیان طویل المدتی شراکت داری کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تجارتی اعتبار سے یہ معاہدہ دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔ نیوزی لینڈ بھارت کو اون، لوہا و اسٹیل، ایلومینیم، پھل، خشک میوہ جات، لکڑی کا گودا اور ری سائیکل شدہ کاغذ جیسی اشیاء برآمد کرتا ہے۔ اس کے برعکس بھارت سے دوا سازی، مشینری، قیمتی دھاتیں، پتھر اور ٹیکسٹائل جیسی مصنوعات درآمد کی جاتی ہیں۔ اس معاہدے کے بعد ٹیرف میں کمی اور تجارتی رکاوٹوں کے خاتمے سے ان اشیاء کی تجارت مزید آسان ہو جائے گی۔
کارپوریٹ سطح پر بھی دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مضبوط ہیں۔ نیوزی لینڈ میں مہندرا موٹرز، ٹیک مہندرا، ٹی سی ایس، انفوسس، ڈاکٹر ریڈی لیباریٹریز اور رائل اینفیلڈ جیسی بھارتی کمپنیاں سرگرم ہیں، جبکہ بھارت میں نیوزی لینڈ کی ہیملٹن جیٹ اور ویلو سٹی جیسی کمپنیاں کام کر رہی ہیں۔ سائنسی میدان میں بھی اشتراک دیکھنے کو ملا ہے، جہاں چندریان-3 مشن میں نیوزی لینڈ کی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی کے تیار کردہ چپس استعمال کیے گئے تھے۔ دفاعی تعلقات کی بات کی جائے تو دونوں ممالک کے درمیان تاریخی روابط موجود ہیں۔ پہلی جنگ عظیم کے دوران 1915 میں گیلی پولی مہم اور دوسری جنگ عظیم میں ایل الامین اور کیسینو کی لڑائیوں میں دونوں ممالک کی افواج نے ایک ساتھ حصہ لیا تھا، جو ان کے دیرینہ تعلقات کی علامت ہے۔ سماجی اور ثقافتی سطح پر بھی دونوں ممالک قریب ہیں۔
نیوزی لینڈ میں تقریباً تین لاکھ بھارتی نژاد افراد آباد ہیں، جو ڈاکٹر، انجینئر، پروفیسر، چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ اور آئی ٹی ماہرین جیسے پیشوں سے وابستہ ہیں۔ اس کے علاوہ کئی افراد خوراک، ڈیری اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں بھی کام کر رہے ہیں۔ وہاں دیوالی اور ہولی جیسے بھارتی تہوار باقاعدگی سے منائے جاتے ہیں، جبکہ ہندی زبان نیوزی لینڈ میں پانچویں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان بن چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ایف ٹی اے نہ صرف دونوں ممالک کی معیشت کو تقویت دے گا بلکہ عالمی سطح پر بھارت کی تجارتی پوزیشن کو بھی مزید مضبوط کرے گا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دنیا غیر یقینی حالات سے گزر رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

